صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
102. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر الخبر الدال على أن هذا الزجر أطلق بلفظة عام مرادها خاص
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس ممانعت کو عام لفظ کے ساتھ بیان کیا گیا لیکن اس سے خاص مراد ہے
حدیث نمبر: 1552
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنْ كَانَ إِلَيْكُمْ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ، فَلا أَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْهُمْ أَنْ يَمْنَعَ مَنْ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ" .
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبدالمطلب کی اولاد! اگر (خانہ کعبہ کے امور کی نگرانی کا) معاملہ تمہارے سپرد ہو، تو میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ وہ بیت اللہ کے قریب کسی شخص کو نماز ادا کرنے سے منع کرے خواہ رات یا دن کی کوئی سی بھی گھڑی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1552]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1280، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1552، 1553، 1554، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1649، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 584، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1894، والترمذي فى (جامعه) برقم: 868، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1967، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1254، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1566، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17008» «رقم طبعة با وزير 1550»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2/ 278 / 481)، «المشكاة» (1045).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1552 in Urdu
عبد الله بن بابي المخزومي ← جبير بن مطعم القرشي