صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
122. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر خبر قد يوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه يضاد خبر سعيد بن جبير الذي ذكرناه
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ سعید بن جبیر کی خبر کے مخالف ہے جو ہم نے ذکر کی
حدیث نمبر: 1576
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَزْهَرِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أرسلوه إلى عائشة، فقالوا: اقرأ عليها السلام منا جميعا وسلها عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَإِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّيهَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَلَيْهَا، قَالَ كُرَيْبٌ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمْةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ، فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمْةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمْةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهَا، ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهَا، أَمَّا حِينَ صَلاهَا، فَإِنَّهُ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَصَلاهَا، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ: قَوْمِي بِجَنْبِهِ، فَقُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمْةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ، فَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، فَقَالَتِ الْجَارِيَةُ: فَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَاسْتَأْخَرْتُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ:" يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ، سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالإِسْلامِ مِنْ قَوْمِهِمْ، فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَهُمَا هَاتَانِ" .
کریب بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور یہ کہا کہ تم انہیں ہماری طرف سے سلام کہنا اور ان سے عصر کے بعد کی دو رکعات کے بارے میں دریافت کرنا اور یہ بھی بتانا کہ ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ یہ دو رکعات ادا کرتی ہیں، جبکہ ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ لوگوں کو ان دو رکعات کے ادا کرنے پر مارا کرتا تھا۔ کریب بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان حضرات نے جو پیغام دے کر مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا تھا وہ ان تک پہنچا دیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے (اس بارے میں) دریافت کرو۔ میں واپس ان حضرات کے پاس آیا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جواب کے بارے میں بتایا تو ان حضرات نے مجھے اسی پیغام کے ہمراہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دیا جو پیغام انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا تھا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رکعات ادا کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رکعات جس وقت ادا کی تھیں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد (میرے ہاں) تشریف لائے تھے، اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلے بنو حرام سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین موجود تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو رکعات ادا کیں تو میں نے ایک لڑکی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا اور میں نے اسے یہ ہدایت کی کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑی ہو جانا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کرنا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا یہ عرض کر رہی ہیں: اے اللہ کے رسول! میں نے تو آپ کو ان دو رکعات کو ادا کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ انہیں ادا کر رہے ہیں، اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر دیں تو تم پیچھے ہٹ جانا۔ لڑکی نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس کے ذریعے اشارہ کیا تھا اس لیے میں پیچھے ہٹ گئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بتائی: ”اے ابوامیہ کی صاحبزادی! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کے بارے میں دریافت کیا ہے، میرے پاس عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اپنی قوم کی طرف سے اسلام کے حوالے سے آئے تھے، انہوں نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعات ادا نہیں کرنے دیں، یہ وہی دو رکعات ہیں“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1576]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1233، 4370، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 834، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1576، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1273، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1476، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3469» «رقم طبعة با وزير 1574»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 187)، «صحيح أبي داود» (1155). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1576 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← أم سلمة زوج النبي