صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
373. باب صفة الصلاة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به أبو الزبير
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف ابو الزبیر نے بیان کی
حدیث نمبر: 1840
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وأبي الزبير ، سمعا جابر بن عبد الله ، يزيد أحدهما على صاحبه، قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ فَيُصَلِّي بِهِمْ، فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَرَجَعَ مُعَاذٌ فَأَمَّهُمْ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، انْحَرَفَ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى وَحْدَهُ، فَقَالُوا: نَافَقْتَ. قَالَ: لا، وَلآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلأُخْبِرَنَّهُ. فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا، وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الصَّلاةَ الْبَارِحَةَ، فَجَاءَ فَأَمَّنَا، فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَإِنِّي أَخَّرْتَ عَنْهُ، فَصَلَّيْتُ وَحْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ، وَإِنَّا نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ اقْرَأْ بِهِمْ سُورَةَ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1، وَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1، وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ سورة البروج آية 1" .
عمرو بن دینار اور ابوزبیر سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ حدیث نقل کرتے ہیں، ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی کے مقابلے میں زیادہ الفاظ نقل کیے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کرتے تھے، پھر وہ اپنے محلے میں جا کر لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ذرا تاخیر سے ادا کی (سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی)، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ واپس گئے اور ان لوگوں کو نماز پڑھانے لگے، انہوں نے سورۃ البقرہ کی تلاوت شروع کر دی، وہاں موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے جب یہ بات دیکھی تو وہ مسجد کے کونے میں گیا اور وہاں تنہا نماز ادا کی (اور چلا گیا)، ان لوگوں نے اس سے کہا: ”تم منافق ہو گئے ہو“، تو اس نے کہا: ”جی نہیں! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس بارے میں بتاؤں گا“، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: ”یا رسول اللہ! سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آپ کی اقتدا میں نماز ادا کرتے ہیں پھر وہ واپس آ کر ہماری امامت کرتے ہیں، گزشتہ رات آپ نے نماز تاخیر سے ادا کی تھی، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ہمیں نماز پڑھانا شروع کی تو انہوں نے سورۃ البقرہ کی تلاوت شروع کر دی، میں پیچھے ہٹا اور تنہا نماز ادا کر لی، یا رسول اللہ! ہم اونٹوں کے ذریعے پانی بھر کر لانے والے اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے خود کام کرنے والے لوگ ہیں“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم آزمائش کا شکار کرنا چاہتے ہو؟ تم ان لوگوں کو (نماز پڑھاتے ہوئے) سورۃ الیل، سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ البروج کی تلاوت کیا کرو“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1840]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 700، 701، 705، 711، 6106، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 465، وابن الجارود فى "المنتقى"، 357، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 521، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1524، 1839، 1840، 2400، 2401، 2402، 2403، 2404، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 830، وأبو داود فى (سننه) برقم: 599، 600، 790، والترمذي فى (جامعه) برقم: 583، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 836، 986، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1075، 1076، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14410» «رقم طبعة با وزير 1837»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (295).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، إبراهيم بن بشار الرمادي: ثقة حافظ، ومن فوقه من رجال الشيخين غير أبي الزبير، فإنه من رجال مسلم، وخرج له البخاري مقرونا بغيره، وهو متابع بعمرو بن دينار.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1840 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري