صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
567. باب الإمامة والجماعة - فصل في فضل الجماعة - ذكر البيان بأن كتبة الآثار لمن أتى الصلوات إنما هي رفع الدرجات وحط الخطايا
امام اور جماعت - جماعت کے بارے میں بیان - اس بات کا بیان کہ نماز کے لیے آنے والوں کے آثار لکھنے کا مطلب درجات کی بلندی اور گناہوں کی معافی ہے
حدیث نمبر: 2043
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدِ بْنِ مُسَرْبَلِ بْنِ مُغَرْبَلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلاتِهِ فِي بَيْتِهِ، وَصَلاتِهِ فِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً، وَذَلِكَ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لا يُرِيدُ إِلا الصَّلاةَ لَمْ يَخْطُ خُطْوَةً إِلا رَفَعَ اللَّهُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلاةُ تَحْبِسُهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آدمی کا باجماعت نماز ادا کرنا اس کا اپنے گھر میں نماز ادا کرنے یا اس کے بازار میں نماز ادا کرنے پر پچیس (25) درجے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ اس کی صورت یوں ہے کہ جب کوئی شخص وضو کرے تو اچھی طرح وضو کرے، پھر وہ مسجد میں آئے اور اس کا ارادہ صرف نماز ادا کرنے کا ہو، تو وہ شخص جو بھی قدم اٹھاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کا درجہ بلند فرماتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کا گناہ معاف فرماتا ہے، یہاں تک کہ وہ شخص مسجد میں داخل ہو جاتا ہے؛ پھر جب وہ مسجد میں داخل ہوتا ہے، تو وہ مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے، جب تک وہ نماز کی وجہ سے مسجد میں رہتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2043]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 477، 648، 4717، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 649، وابن الجارود فى "المنتقى"، 332، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1472، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2043، 2051، 2053، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 485، وأبو داود فى (سننه) برقم: 559، والترمذي فى (جامعه) برقم: 216، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7306» «رقم طبعة با وزير 2041»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (568): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، أبو معاوية: هو محمد بن خازم، والأعمش: سليمان بن مهران، وأبو صالح: هو ذكوان السمان.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2043 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي