صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
585. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان -
حدیث نمبر: 2063
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي مَكْفُوفُ الْبَصَرِ شَاسِعُ الدَّارِ، فَكَلَّمَهُ فِي الصَّلاةِ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِهِ، قَالَ:" أَتَسْمَعُ الأَذَانَ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَأْتِهَا وَلَوْ حَبْوًا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي سُؤَالِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فِي تَرْكِ إِتْيَانِ الْجَمَاعَاتِ، وَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْتِهَا وَلَوْ حَبْوًا"، أَعْظَمُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ هَذَا أَمْرُ حَتْمٍ لا نَدْبٍ، إِذْ لَوْ كَانَ إِتْيَانُ الْجَمَاعَاتِ عَلَى مَنْ يَسْمَعُ النِّدَاءَ لَهَا غَيْرَ فَرْضٍ، لأَخْبَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرُّخْصَةِ فِيهِ، لأَنَّ هَذَا جَوَابٌ خَرَجَ عَلَى سُؤَالٍ بِعَيْنِهِ، وَمُحَالٌ أَنْ لا يُوجَدَ لِغَيْرِ الْفَرِيضَةِ رُخْصَةٌ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نابینا شخص ہوں اور میرا گھر دور ہے۔ انہوں نے نماز کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی کہ آپ انہیں اجازت دیں کہ وہ اپنے گھر میں نماز ادا کر لیا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم اذان کو سنتے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم (اس باجماعت نماز) میں شریک ہو، اگرچہ تمہیں گھسٹ کر چل کر آنا پڑے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی تھی کہ آپ انہیں اس بات کی رخصت دیں کہ وہ جماعت میں شریک نہ ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اس میں شریک ہو خواہ تمہیں گھسٹ کر چل کر آنا پڑے“ یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ یہ حکم لازمی طور پر ہے، استحباب کے طور پر نہیں ہے، کیونکہ جو شخص اذان کی آواز سنتا ہے، اگر اس کا جماعت میں شریک ہونا فرض نہ ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بتا دیتے کہ اس بارے میں اجازت ہے، کیونکہ یہ جواب بھی اسی طرح کے سوال کے جواب میں آیا ہے، تو یہ بات ناممکن ہے کہ جو چیز فرض ہو اس کی رخصت موجود نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2063]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2063، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15179، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1803، 1885، 2073، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 1148، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3726» «رقم طبعة با وزير 2060»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره؛ دون: «فَأْتِهَا وَلَوْ حَبْوًا»، وإنما هذا في الحضّ على الجماعة في صلاة العشاء والفجر؛ كما في حديث أُبَيّ المتقدِّم (2054) وحديث أبي هريرة الآتي (2095). تنبيه!! رقم (2054) = (2056) من «طبعة المؤسسة». رقم (2095) = (2098) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف، عيسى بن جارية: قال ابن معين: ليس بذاك، عنده مناكير، وقال أبو زرعة: لا بأس به، وذكره المؤلف في «الثقات»، وقال أبو داود: منكر الحديث، وذكره الساجي، والعقيلي في «الضعفاء»، وقال ابن عدي: أحاديثه غير محفوظة، وفي «التقريب»: فيه لين.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2063 in Urdu
جابر بن عبد الله الأنصاري ← عبد الله بن أم مكتوم الأعمى