🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
709. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به عنبسة عن الحسن
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف عنبسہ نے حسن سے روایت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2195
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ زِيَادٍ الأَعْلَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ، قَالَ: فَرَكَعْتُ دُونَ الصَّفِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلا تَعُدْ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الضَّرْبِ الَّذِي ذَكَرْتُ فِي كِتَابِ فُصُولِ السُّنَنِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ يَنْهَى عَنْ شَيْءٍ فِي فِعْلٍ مَعْلُومٍ، وَيَكُونُ مُرْتَكِبُ ذَلِكَ الشَّيْءِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ مَأْثُومًا بِفِعْلِهِ ذَلِكَ إِذَا كَانَ عَالِمًا بِنَهْيِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، وَالْفِعْلُ جَائِزٌ عَلَى مَا فَعَلَهُ، كَنَهْيِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، أَوْ يَسْتَامَ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، فَإِنْ خَطَبَ امْرُؤٌ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ بَعْدَ عِلْمِهِ بِالنَّهْيِ عَنْهُ كَانَ مَأْثُومًا، وَالنِّكَاحُ صَحِيحٌ، فَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي بَكْرَةَ:" زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا، وَلا تَعُدْ"، فَإِنْ عَادَ رَجُلٌ فِي هَذَا الْفِعْلِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ، وَكَانَ عَالِمًا بِذَلِكَ النَّهْيِ كَانَ مَأْثُومًا فِي ارْتِكَابِهِ الْمَنْهِيَّ، وَصَلاتُهُ جَائِزَةٌ، وَلأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاحَ هَذَا الْقَدْرَ لأَبِي بَكْرَةَ مُسْتثْنًى مِنْ جُمْلَةِ مَا نَهَاهُ عَنْهُ فِي خَبَرِ وَابِصَةَ، كَالْمُزَابَنَةِ وَالْعَرِيَّةِ وَلَوْ لَمْ تَجُزِ الصَّلاةُ بِهَذَا الْوَصْفِ لأَبِي بَكْرَةَ لأَمَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِعَادَةِ الصَّلاةِ. وَقَوْلُهُ:" وَلا تَعُدْ"، أَرَادَ بِهِ: لا تَعُدُ فِي إِبْطَاءِ الْمَجِيءِ إِلَى الصَّلاةِ، لا أَنَّهُ أَرَادَ بِهِ أَنْ لا تَعُودَ بَعْدَ تَكْبِيرِكَ فِي اللُّحُوقِ بِالصَّفِّ.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت رکوع کی حالت میں تھے، انہوں نے بیان کیا: میں صف تک پہنچنے سے پہلے ہی رکوع میں چلا گیا (اور پھر صف میں آ کر شامل ہوا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «زَادَکَ اللّٰہُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ» اللہ تعالیٰ تمہاری حرص میں اضافہ کرے، دوبارہ ایسا نہ کرنا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس قسم سے تعلق رکھتی ہے جس کے بارے میں میں نے کتاب اصول السنن میں یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کسی متعین فعل کے حوالے سے کسی چیز سے منع کرتے ہیں، اور اس ممنوعہ فعل کا مرتکب شخص اس کے سرانجام دینے پر گناہ گار شمار ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت سے واقف ہو، لیکن اس آدمی کا کیا ہوا وہ فعل جائز ہوتا ہے۔ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے یا اپنے بھائی کی بولی پر بولی لگائے، تو جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حوالے سے ممانعت کا علم ہونے کے باوجود اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیج دیتا ہے تو وہ گناہ گار ہوتا ہے، لیکن (اس پیغام کے نتیجے میں کیا جانے والا) نکاح درست شمار ہوگا۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا: «زَادَکَ اللّٰہُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ» اللہ تعالیٰ تمہاری حرص میں اضافہ کرے، تم دوبارہ ایسا نہ کرنا، تو اگر کوئی شخص دوبارہ اس ممنوعہ فعل کا مرتکب ہوتا ہے اور وہ اس کی ممانعت سے واقف بھی ہو تو وہ اس ممنوعہ فعل کے ارتکاب پر گناہ گار شمار ہوگا، لیکن اس کی نماز جائز ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مقدار کو سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے لیے مباح قرار دیا تھا کہ یہ اس عمومی حکم سے مستثنیٰ ہو جائے گا جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا، جس کا ذکر سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں ہے۔ اس کی مثال مزابنہ اور عریہ کی مانند ہو جائے گی۔ اگر سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے لیے اس صفت کے ساتھ نماز ادا کرنا جائز نہ ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو نماز دہرانے کا حکم دیتے، تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد تم دوبارہ ایسا نہ کرنا اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ نماز کے لیے آتے ہوئے تم دوبارہ ایسی تیزی نہ دکھانا، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہنا چاہتے ہوں کہ تم تکبیر کہنے کے بعد صف میں آ کر شامل نہ ہونا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2195]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 783، وابن الجارود فى "المنتقى"، 348، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2195، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 870، وأبو داود فى (سننه) برقم: 683، 684، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20733» «رقم طبعة با وزير 2192»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، يزيد بن زريع سمع من ابن أبي عروبة قبل الاختلاط، زياد الأعلم: هو زياد بن حسان بن قرة الباهلي، وقد صرح الحسن بالتحديث في رواية النسائي وأبي داود وغيرهما.


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرةصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← نفيع بن مسروح الثقفي
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥زياد بن حسان الباهلي
Newزياد بن حسان الباهلي ← الحسن البصري
ثقة ثقة
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← زياد بن حسان الباهلي
ثقة حافظ
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن المقدام العجلي، أبو الأشعث
Newأحمد بن المقدام العجلي ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن قحطبة الصلحي
Newعبد الله بن قحطبة الصلحي ← أحمد بن المقدام العجلي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 2195 in Urdu