یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
713. باب فرض متابعة الإمام - ذكر البيان بأن النبي صلى الله عليه وسلم إنما أمر هذا الرجل بإعادة الصلاة لأنه لم يتصل بمصل مثله حيث كان مأموما
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم اس لیے دیا کیونکہ وہ مأموم ہونے کے باوجود اس جیسے نمازی سے متصل نہ تھا
حدیث نمبر: 2200
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، وَنَحْنُ بِالرَّقَّةِ، فَأَقَامَنِي عَلَى شَيْخٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، يُقَالُ لَهُ: وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي هَذَا الشَّيْخُ:" أَنَّ رَجُلا صَلَّى خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ، لَمْ يَتَّصِلْ بِأَحَدٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الصَّلاةَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ هِلالُ بْنُ يَسَافٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، وَسَمِعَهُ مِنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ وَابِصَةَ، وَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ.
ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں: زیاد بن ابوجعد نے میرا ہاتھ پکڑا ہم اس وقت ”رقہ“ میں موجود تھے۔ انہوں نے مجھے بنواسد سے تعلق رکھنے والے ایک عمر رسیدہ شخص کے پاس لا کر کھڑا کیا۔ ان کا نام سیدنا وابصہ بن معبد تھا۔ زیاد نے یہ بتایا، اس بزرگ نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے۔ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اکیلے کھڑے ہو کر نماز ادا کی وہ کسی دوسرے کے ساتھ (صف میں) کھڑا نہیں ہوا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز دوبارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت ہلال بن یساف نے عمرو بن راشد کے حوالے سے وابصہ بن معبد سے سنی ہے۔ اور انہوں نے یہ روایت زیاد کے حوالے سے سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔ تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2200]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 349، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2198، 2199، 2200، 2201، وأبو داود فى (سننه) برقم: 682، والترمذي فى (جامعه) برقم: 230، 231، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1322، 1323، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1004، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5288» «رقم طبعة با وزير 2197»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن في الشواهد، رجاله ثقات غير زياد بن أبي الجعد، فقد ذكره المؤلف في «الثقات»، وروى عنه اثنان، وحصين: هو ابن عبد الرحمن السلمي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2200 in Urdu
زياد بن أبي الجعد الأشجعي ← وابصة بن معبد الأسدي