🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
94. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الله جل وعلا بتفضله قد يغفر لمن أحب من عباده ذنوبه بشهادته له ولرسوله صلى الله عليه وسلم-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا اپنے فضل سے جس بندے کو چاہے، اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اگر وہ اس کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 225
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيِّ الْحُبُلِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ سَيُخَلِّصُ رَجُلا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلا، كُلُّ سِجِلٍّ مَدُّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُ: أَتُنْكِرُ شَيْئًا مِنْ هَذَا؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ؟ فَيَقُولُ: لا يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: أَفَلَكَ عُذْرٌ أَوْ حَسَنَةٌ؟ فَيُبْهَتُ الرَّجُلُ وَيَقُولُ: لا يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: بَلَى، إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً، وَإِنَّهُ لا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ، فَيُخْرِجُ لَهُ بِطَاقَةً فِيهَا: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيَقُولُ: احْضُرْ وَزْنَكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلاتِ؟ فَيَقُولُ: إِنَّكَ لا تُظْلَمُ، قَالَ: فَتُوضَعُ السِّجِلاتُ فِي كِفَّةٍ، وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ، فَطَاشَتَ السِّجِلاتُ، وَثَقُلَتَ الْبِطَاقَةُ، قَالَ: فَلا يَثْقُلُ اسْمَ اللَّهِ شَيْءٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک فرد کو تمام مخلوق میں سے الگ کرے گا، پھر اس کے سامنے ننانوے رجسٹر کھول دے گا، ان میں سے ہر ایک اتنا بڑا ہو گا جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: کیا تم اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ کیا نوٹ کرنے والے محافظ فرشتوں نے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے؟ وہ جواب دے گا: جی نہیں، اے میرے پروردگار! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تمہارے پاس کوئی عذر ہے یا نیکی ہے؟ تو وہ شخص مبہوت ہو جائے گا اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! جی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جی ہاں! تمہاری ایک نیکی ہمارے پاس ہے، اور آج کے دن تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ پھر اس شخص کے سامنے کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائے گا، جس میں یہ تحریر ہو گا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میزان کے پاس آ جاؤ۔ وہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! ان رجسٹروں کے مقابلے میں اس کاغذ کی کیا حیثیت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو وہ تمام رجسٹر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ کاغذ کا ٹکڑا دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا، تو رجسٹروں والا پلڑا اوپر چلا جائے گا اور کاغذ کے ٹکڑے والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا (یا شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی یا شاید کسی راوی کے یہ الفاظ ہیں): اللہ تعالیٰ کے اسم سے زیادہ وزنی اور کوئی چیز نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 225]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 225، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 9، 1943، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2639، 2639 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4300، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7114، 7187، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 339، والطبراني فى(الكبير) برقم: 14614، 14645، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4725»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (240 - 241).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، عبد الوارث بن عبيد الله: صدوق، وباقي رجاله على شرط مسلم. عبد الله: هو ابن المبارك، وأبو عبد الرحمن المعافري: هو عبد الله بن يزيد المعافري.


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن يزيد المعافري، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد المعافري ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥عامر بن يحيى المعافري، أبو خنيس
Newعامر بن يحيى المعافري ← عبد الله بن يزيد المعافري
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← عامر بن يحيى المعافري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥عبد الوارث بن عبيد الله العتكي
Newعبد الوارث بن عبيد الله العتكي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الله البستي، أبو الحسن
Newمحمد بن عبد الله البستي ← عبد الوارث بن عبيد الله العتكي
صدوق حسن الحديث
Sahih Ibn Hibban Hadith 225 in Urdu