صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1144. باب قضاء الفوائت - ذكر البيان بأن من فاتته ركعتا الظهر إلى أن يصلي العصر ليس عليه إعادتهما وإنما كان ذلك للمصطفى صلى الله عليه وسلم خاصة دون أمته
قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص ظہر کی دو رکعتوں سے چھوٹ جائے یہاں تک کہ وہ عصر پڑھ لے، اس پر ان کی دوبارہ ادائیگی لازم نہیں، اور یہ صرف مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا، نہ کہ ان کی امت کے لیے
حدیث نمبر: 2653
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّيْتَ صَلاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا، فَقَالَ: " قَدِمَ عَلَيَّ مَالٌ، فَشَغَلَنِي عَنْ رَكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا قَبْلَ الْعَصْرِ، فَصَلَّيْتُهُمَا الآنَ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَنَقْضِيهِمَا إِذَا فَاتَتْنَا؟ قَالَ:" لا" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد میرے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات ادا کیں۔ میں نے عرض کی: آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیسی نماز ادا کی ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے ادا نہیں کی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس کچھ مال آیا تھا تو میں مصروفیت کی وجہ سے ان دو رکعات کو عصر سے پہلے ادا نہیں کر سکا جیسے پہلے ادا کرتا تھا، ان دونوں کو میں نے اب ادا کر لیا ہے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر ہم سے یہ رکعات فوت ہو جائیں، تو ہم ان کی قضا کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2653]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1276، 1277، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1574، 2653، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 578، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4465، 4634، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27158، والحميدي فى (مسنده) برقم: 297» «رقم طبعة با وزير 2644»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (946).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2653 in Urdu
ذكوان المدني ← أم سلمة زوج النبي