صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1176. باب سجود السهو - ذكر خبر ثان يصرح بأن أبا هريرة شاهد هذه الصلاة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم
سجدہ سهو کرنے کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ ابو ہریرہ نے اس نماز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا
حدیث نمبر: 2688
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتَيِ الْعَشِيِّ، إِمَّا قَالَ: الظُّهْرَ، وَإِمَّا قَالَ: الْعَصْرَ، قَالَ: وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، وَتَقَدَّمَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا، إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: قُصِرَتِ الصَّلاةُ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا، فَهَابَا أَنْ يَسْأَلا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ: " مَا قُصِرَتِ الصَّلاةُ، وَلا نَسِيتُ"، قَالَ: بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" أَكَذَلِكَ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَأَطَالَ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ سَجَدَ الثَّانِيَةَ، فَأَطَالَ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ: ثُمَّ سَلَّمَ؟ قَالَ: لَمْ أَحْفَظْ ذَلِكَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُنْبِئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَخْبَارُ ذِي الْيَدَيْنِ مَعْنَاهَا: أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَ فِي صَلاتِهِ عَلَى أَنَّ الصَّلاةَ قَدْ تَمَّتْ لَهُ، وَأَنَّهُ قَدْ أَدَّى فَرْضَهُ الَّذِي عَلَيْهِ، وَذُو الْيَدَيْنِ قَدْ تَوَهَّمَ أَنَّ الصَّلاةَ قَدْ رُدَّتْ إِلَى الْفَرِيضَةِ الأُولَى، فَتَكَلَّمَ عَلَى أَنَّهُ فِي غَيْرِ الصَّلاةِ، وَأَنَّ صَلاتَهُ قَدْ تَمَّتْ، فَلَمَّا اسْتَثْبَتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ، كَانَ مِنَ اسْتِثْبَاتِهِ عَلَى يَقِينٍ أَنَّهُ قَدْ أَتَمَّ صَلاتَهُ، وَأَمَّا جَوَابُ الصَّحَابَةِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ لَهُ أَنْ: نَعَمْ، فَكَانَ الْوَاجِبُ عَلَيْهِمْ أَنْ يُجِيبُوهُ، وَإِنْ كَانُوا فِي نَفْسِ الصَّلاةِ، لِقَوْلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24، فَأَمَّا الْيَوْمَ، فَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ، وَأُقِرَّتِ الْفَرَائِضُ، فَإِنْ تَكَلَّمَ الإِمَامُ وَعِنْدَهُ أَنَّ الصَّلاةَ قَدْ تَمَّتْ بَعْدَ السَّلامِ لَمْ تَبْطُلْ صَلاتُهُ، وَإِنْ سَأَلَ الْمَأْمُومِينَ فَأَجَابُوهُ بَطَلَتْ صَلاتُهُمْ، وَإِنْ سَأَلَ بَعْضَ الْمَأْمُومِينَ الإِمَامَ عَنْ ذَلِكَ، بَطَلَتْ صَلاتُهُ لاسْتِحْكَامِ الْفَرَائِضِ، وَانْقِطَاعِ الْوَحْيِ، وَالْعِلَّةُ فِي سَهْوِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ مُعَلِّمًا قَوْلا وَفِعْلا، فَكَانَتِ الْحَالُ تَطْرَأُ عَلَيْهِ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ، وَالْقَصْدُ فِيهِ إِعْلامُ الأُمَّةِ مَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ عِنْدَ حُدُوثِ تِلْكَ الْحَالَةِ بِهِمْ بَعْدَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دوپہر کی ایک نماز پڑھائی (راوی کہتے ہیں) شاید انہوں نے ظہر کی نماز کا ذکر کیا تھا یا عصر کا ذکر کیا تھا، لیکن میرا غالب گمان یہ ہے، وہ عصر کی نماز تھی۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں اس کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آگے کی طرف رکھی ہوئی لکڑی کی طرف بڑھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ دیے ان میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر تھا۔ جلد باز لوگ (مسجد سے) باہر نکل گئے وہ یہ کہہ رہے تھے نماز مختصر ہو گئی ہے۔ حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے لیکن انہیں اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کرنے کی جرات نہیں ہوئی، ایک صاحب جن کا نام ذوالیدین رضی اللہ عنہ تھا انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز مختصر نہیں ہوئی اور میں بھی بھولا نہیں ہوں۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اسی طرح ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا پھر دو مرتبہ سجدہ سہو کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عام سجدوں جتنا طویل تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ سجدہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام سجدوں جتنا طویل سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ نامی راوی سے دریافت کیا گیا: روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا، تو انہوں نے بتایا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے یہ الفاظ یاد نہیں ہیں، البتہ مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کی اطلاع کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران کلام کیا تھا، اس بنیاد پر کہ ان کی نماز مکمل ہو چکی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ فرض ادا کر لیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے لازم تھا۔ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ یہ سمجھے کہ شاید نماز اپنے پہلے والے فرض کی طرف لوٹا دی گئی ہے، انہوں نے اس صورت میں کلام کر دیا کہ وہ نماز کی حالت میں نہیں ہیں اور نماز مکمل ہو چکی ہے۔ لیکن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے تصدیق چاہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا یقین ہو گیا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو مکمل کر لیا۔ جہاں تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دینے کا تعلق ہے کہ انہوں نے جی ہاں کہا: تو اب ان لوگوں پر یہ بات لازم تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتے اگرچہ وہ نماز ادا کر رہے ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 24] ”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر جواب دو جب وہ تمہیں بلائیں تاکہ یہ چیز تم کو زندگی دے۔“ جہاں تک آج کے دن کا تعلق ہے، تو اب وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے اور فرض برقرار ہو چکے ہیں۔ تو جب امام کلام کرے اور اس کا خیال یہ ہو کہ سلام پھیرنے کے بعد اس کی نماز مکمل ہو چکی ہے تو اس کی نماز باطل نہیں ہو گی۔ لیکن اگر وہ مقتدیوں سے سوال کرتا ہے اور مقتدی اس کو جواب دیتے ہیں، تو ان لوگوں کی نماز باطل ہو جائے گی اور اگر امام نے بعض مقتدیوں سے اس بارے میں دریافت کیا، تو امام کی نماز بھی باطل ہو جائے گی، کیونکہ اب فرائض مستحکم ہو چکے ہیں اور وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے دوران سہو لاحق ہونے میں علت یہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دینے والا بنا کر بھیجا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قولی طور پر بھی اور عملی طور پر بھی تعلیم دیتے تھے۔ تو بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی کیفیت طاری ہو جاتی تھی، جس کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اطلاع دینا ہوتا تھا کہ اس طرح کی صورتحال درپیش ہونے پر ان پر کیا چیز لازم ہو گی؟ یعنی وہ صورت حال جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کو پیش آئے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2688]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 482، 714، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 269، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 860، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2249، 2251، 2252، 2253، 2254، 2255، 2256، 2675، 2684، 2685، 2686، 2687، 2688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1008، والترمذي فى (جامعه) برقم: 394، 399، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1378، 1379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5046» «رقم طبعة با وزير 2678»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر (2665). تنبيه!! رقم (2665) = (2675) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥سليمان بن داود العتكي، أبو الربيع سليمان بن داود العتكي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة | |
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى أبو يعلى الموصلي ← سليمان بن داود العتكي | ثقة مأمون |
Sahih Ibn Hibban Hadith 2688 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي