صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1194. باب المسافر - ذكر ما يستحب للمرء أن يستعمل في سفره إذا صعب عليه المشي والمشقة
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے سفر میں استعمال کرے اگر اسے چلنا اور مشقت مشکل ہو
حدیث نمبر: 2706
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ، قَالَ: فَصَامَ النَّاسُ وَهُمْ مُشَاةٌ وَرُكْبَانٌ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصَّوْمُ، إِنَّمَا يَنْظُرُونَ مَا تَفْعَلُ، فَدَعَا بِقَدَحٍ، فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ، ثُمَّ شَرِبَ، فَأَفْطَرَ بَعْضُ النَّاسِ وَصَامَ بَعْضٌ، فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بَعْضَهُمْ صَامَ، فَقَالَ:" أُولَئِكَ الْعُصَاةُ"، وَاجْتَمَعَ الْمُشَاةُ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: نَتَعَرَّضُ لِدَعَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اشْتَدَّ السَّفَرُ، وَطَالَتِ الْمَشَقَّةُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَعِينُوا بِالنَّسْلِ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ عَلَيْكُمُ الأَرْضِ، وَتَخِفُّونَ لَهُ" ، قَالَ: فَفَعَلْنَا، فَخَفَفْنَا لَهُ.
سیدنا امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم «كُرَاعِ الْغَمِيمِ» ”کراع الغمیم“ کے مقام پر پہنچے، تو راوی بیان کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، کچھ پیدل چل رہے تھے اور کچھ سوار تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی کہ لوگوں کے لیے روزہ رکھنا دشواری کا باعث ہو رہا ہے اور لوگ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ منگوایا اور اس کو اپنے منہ کی طرف بلند کیا یہاں تک کہ لوگوں نے دیکھ لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا، اس کے بعد کچھ لوگوں نے روزہ ختم کر دیا اور کچھ لوگ بدستور روزے کی حالت میں رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی کہ بعض لوگوں نے ابھی بھی روزہ رکھا ہوا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أُولَئِكَ الْعُصَاةُ» ”وہ لوگ نافرمان ہیں“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے پیدل چلنے والے لوگ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے درپے ہو رہے ہیں جبکہ سفر شدت اختیار کر چکا ہے اور مشقت طویل ہو گئی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «عَلَيْكُمْ بِالنَّسَلِ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ الْأَرْضَ، وَيُهَوِّنُ السَّيْرَ» ”تم لوگ تیزی سے چلنے کے ذریعے مدد حاصل کرو کیونکہ وہ زمین کے نشان کو منقطع کر دیتی ہے، یہ تم لوگوں کے لیے آسان ہو گا“۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے ایسا ہی کیا، تو ہمارے لیے یہ آسان ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2706]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1114، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2019، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2706، 3549، 3551، 3565، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1587، والترمذي فى (جامعه) برقم: 710، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8243،وأحمد فى (مسنده) برقم: 14732» «رقم طبعة با وزير 2695»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [التعليق] قال الشيخ: أخرجه من طريق أبي يعلى، وهذا في «مسنده» (3/ 400 - 401) - من طريق عبد الله بن عمر بن أبان -، وأخرجه ابن خزيمة (4/ 139 - 140) - من طريق مُحَمد بن بشَّار -، كلاهما، عن عبد الوهاب بن عبد المجيد ... بسنده الصحيح عن جابر. وعزاه الدارانيُّ في تعليقه على «المسند» لمسلم وغيره! وهذا من أوهامه الكثيرة؛ فإِنَّهُ عندَهم مُختصرٌ جِدًّا، إلى قوله: «أولئك العُصاة» - دون ما بعده -! وعزاهُ شُعيب في تعليقه هنا للحاكم - أيضا -! وليس عنده إلاَّ قصَّة الثلاثة! وهي مُخَرَّجةٌ في «الصحيحة» (465)، وما رواه مسلم: في «الإرواء» (4/ 57 - 58).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2706 in Urdu
محمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري