صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
45. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر الإخبار عن وصف الذي تطأ به ذوات الأرواح أربابها في القيامة إذا لم يخرج حق الله منها
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ قیامت کے دن جانوروں والے اپنے مالکان کو روندتے ہیں اگر انہوں نے ان سے اللہ کا حق نہ نکالا
حدیث نمبر: 3255
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لا يَفْعَلُ فِيهَا خَيْرًا إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا، وَلا صَاحِبِ بَقَرٍ إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَتَطَؤُهُ بِأَظْلافِهَا، لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلا مُكَسَّرٌ قَرْنُهَا، وَلا صَاحِبِ كَنْزٍ لا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاغِرًا فَاهُ، فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ، فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ: كَنْزُكَ الَّذِي خَبَّأْتَهُ، فَإِذَا رَأَى أَنْ لا بُدُّ لَهُ مِنْهُ، سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ، فَيَقْضَمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اونٹوں کا جو بھی مالک ان کے بارے میں بھلائی نہیں کرے گا (یعنی ان کی زکاۃ ادا نہیں کرے گا)، تو وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ (صحت مند ہو کر) آئیں گے، اس شخص کو ان کے سامنے ایک کھلے میدان میں بٹھا دیا جائے گا، وہ اپنی ٹانگوں اور پاؤں کے ذریعے اسے ماریں گے۔ گائے کا مالک (جو ان کی زکاۃ ادا نہیں کرے گا)، تو وہ گائے قیامت کے دن پہلے سے زیادہ (صحت مند ہو کر) آئیں گی، اس شخص کو ان کے سامنے ایک کھلے میدان میں بٹھا دیا جائے گا، وہ اپنے سینگوں کے ذریعے اسے ماریں گی اور پاؤں کے ذریعے اسے روندیں گی، ان میں کوئی ایسی گائے نہیں ہو گی جو بغیر سینگ کے ہو یا جس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو۔ خزانے کا جو بھی مالک (اس کی زکاۃ ادا نہیں کرے گا)، تو وہ خزانہ قیامت کے دن گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور اپنا منہ کھول کر اس کے پیچھے جائے گا، جب وہ اس کے قریب آئے گا، تو یہ اس سے بھاگے گا، تو اس کا پروردگار اسے پکارے گا: یہ وہ تمہارا خزانہ ہے جسے تم نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا، جب وہ شخص یہ دیکھے گا کہ اب وہ اس سے نہیں بچ سکتا تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ کی طرف بڑھائے گا، تو وہ سانپ اس کے ہاتھ کو یوں چبا لے گا جس طرح اونٹ کوئی چیز چباتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3255]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 988، وابن الجارود فى "المنتقى"، 369، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3255، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2453، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1657، 1658، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7879، 7880، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14666» «رقم طبعة با وزير 3244»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (558): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 3255 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري