صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
87. - باب حرمة المناكحة - ذكر الإخبار عن نفي جواز تزويج المرء امرأته المطلقة قبل أن تذوق عسيلة غيره وإن انقضت عدتها
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی اپنی مطلقہ بیوی سے اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتا جب تک وہ دوسرے کی عسيلہ نہ چکھ لے، چاہے اس کی عدت ختم ہو جائے
حدیث نمبر: 4122
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَتَزَوَّجْتُ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَدَخَلَ بِهَا، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَاقِعَهَا، أَتَحِلُّ لِلأَوَّلِ؟، قَالَ:" لا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا، وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ" .
سیدہ عائشہ صدیقه رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے پھر وہ عورت کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لیتی ہے اس عورت کی رخصتی ہو گئی پھر وہ مرد اس عورت کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دیتا ہے تو کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں! جب تک وہ مرد اس عورت کا شہد نہیں چکھ لیتا، وہ عورت اس مرد کا شہد نہیں چکھ لیتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4122]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4110»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1999)، «الإرواء» (6/ 298).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق