صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. ذكر الأمر بوفاء نذر الناذر إذا نذر ما لله فيه طاعة-
- ذکر اس حکم کا کہ نذر ماننے والے کو اپنی نذر پوری کرنی چاہیے اگر اس نے ایسی چیز کی نذر مانی جو اللہ کی اطاعت میں ہو
حدیث نمبر: 4385
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَأَبُو يَعْلَى ، قَالا: حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِِذْ رَأَى رَجُلا قَائِمًا فِي الشَّمْسِ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَذَا أَبُو إِِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ فِي الشَّمْسِ فَلا يَقْعُدَ، وَلا يَسْتَظِلُّ، وَلا يَتَكَلَّمُ، وَلا يُفْطِرُ، فَقَالَ:" مُرُوهُ فَلْيَقْعُدْ، وَلْيَسْتَظِلَّ، وَلْيَتَكَلَّمْ، وَلْيَصُمْ، وَلْيُفْطِرْ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دھوپ میں کھڑے ہوئے دیکھا تو اس کے بارے میں دریافت فرمایا، لوگوں نے بتایا: یہ ابواسرائیل ہے، اس نے یہ نذر مانی ہے کہ دھوپ میں کھڑا رہے گا اور بیٹھے گا نہیں اور سائے میں نہیں آئے گا اور کسی سے بات نہیں کرے گا اور (نفلی) روزہ ترک نہیں کرے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ یہ بیٹھ جائے، سائے میں آ جائے، بات چیت بھی کرے، (نفلی) روزہ رکھ بھی لے اور چھوڑ بھی لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النذور/حدیث: 4385]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6704، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1010، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4385، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3228، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2136، 2136 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20150، 20152، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4323، والطبراني فى(الكبير) برقم: 10930»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (8/ 218): خ دون قوله: في الشمس. (*) قال محمود خليل: تصحف في المطبوع إلى: «وَلاَ يُفْطِرْ»!
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4385 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي