صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
167. باب فضل الشهادة-
باب شہادت کی فضیلت -
حدیث نمبر: 4651
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا أَصْحَابَ بِئْرِ مَعُونَةَ ثَلاثِينَ صَبَاحًا، يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَلِحْيَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ" . قَالَ أَنَسٌ: أَنْزَلَ اللَّهُ فِي الَّذِينَ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قُرْآنًا قَرَأْنَاهُ حَتَّى نُسِخَ بَعْدُ: أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَرَضِينَا عَنْهُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس دن تک ان لوگوں کے خلاف بددعا کی جنہوں نے بئرِ معونہ کے مقام پر صحابہ کرام کو شہید کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رعل، لحیان اور عصیہ قبیلوں کے خلاف بددعا کی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بئرِ معونہ کے مقام پر شہید ہونے والوں کے بارے میں قرآن کی آیات نازل کی تھیں جنہیں ہم تلاوت کرتے تھے، بعد میں وہ آیات منسوخ ہو گئیں (ان میں یہ الفاظ بھی تھے): ”ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو کہ ہم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ہیں، وہ ہم سے راضی ہے اور ہم اس سے راضی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب السير/حدیث: 4651]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1001، 1002، 1003، 1300، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 677، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1973، 1982، 1985، 4651، 7263، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1069، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1444، 1445، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1184، 1243، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1666، 1667، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12246» «رقم طبعة با وزير 4632»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (2814)، م (677).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 4651 in Urdu
إسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري