صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
12. ذكر الخبر الدال على أن الحاكم له أن يهدد الخصمين بما لا يريد أن يمضيه إذا أراد استكشاف واضح خفي عليه-
- یہ خبر کہ حاکم کو اختیار ہے کہ فریقین کو کسی ایسی بات سے ڈرائے جسے وہ نافذ کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، اگر اس سے وہ حقیقت کو واضح کرنا چاہتا ہو جو اس پر مخفی ہے۔
حدیث نمبر: 5066
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا دَاوُدَ، وَكُلُّ وَاحِدَةٍ تَخْتَصِمُ فِي ابْنِهَا، فَقَضَى لِلْكُبْرَى، فَلَمَّا خَرَجَتَا، قَالَ سُلَيْمَانُ: كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمَا؟ فَأَخْبَرَتَاهُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ، وَأَوَّلُ مَنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ السِّكِّينُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا كُنَّا نُسَمِّيهَا الْمُدْيَةَ، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: مَهْ؟ قَالَ: أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا، قَالَتِ: ادْفَعْهُ إِلَيْهَا، وَقَالَتِ: الْكُبْرَى شُقَّهُ بَيْنَنَا، قَالَ: فَقَضَاهُ سُلَيْمَانُ لِلصُّغْرَى، وَقَالَ: لَوْ كَانَ ابْنَكِ لَمْ تَرْضَيْ أَنْ نَشُقَّهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دو خواتین سیدنا داؤد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں، وہ ایک بچے کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھیں۔ سیدنا داؤد علیہ السلام نے بڑی عمر کی عورت کے حق میں فیصلہ فرما دیا، جب وہ دونوں وہاں سے نکلیں تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے دریافت کیا: سیدنا داؤد علیہ السلام نے تم دونوں کے درمیان کیا فیصلہ دیا ہے؟ ان دونوں خواتین نے سیدنا سلیمان علیہ السلام کو اس بارے میں بتایا، تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: تم میرے پاس چھری لے کر آؤ (راوی کہتے ہیں: پہلی مرتبہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی لفظ «السِّكِّينُ» ”سکین“ سنا، کیونکہ ہم لوگ چھری کے لیے لفظ «المُدْيَةُ» ”مدیہ“ استعمال کرتے ہیں) تو چھوٹی عمر کی عورت نے دریافت کیا: وہ کیوں؟ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے کہا: میں اس بچے کو تم دونوں کے درمیان تقسیم کر دوں گا۔ اس عورت نے کہا: آپ اس بچے کو اس بڑی عمر کی عورت کے سپرد کر دیں، جبکہ بڑی عمر کی عورت نے کہا: آپ اسے ہمارے درمیان تقسیم کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے چھوٹی عمر کی عورت کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ انہوں نے فرمایا: اگر یہ تمہارا بیٹا ہوتا تو تم اس بات سے راضی نہ ہوتیں کہ اس کے ٹکڑے کر دیے جائیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب القضاء/حدیث: 5066]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3427، 6769، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1720، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5066، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5417، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21344، 21345، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8396» «رقم طبعة با وزير 5043»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5066 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي