صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
17. ذكر الزجر عن الظلم والفحش والشح-
- یہ تنبیہ کہ ظلم، بے حیائی اور بخل سے روکا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 5176
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلا التَّفَحُّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الشُّحُّ أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ، فَقَطَعُوا أَرْحَامَهُمْ، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ، فَفَجَرُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا" . فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَيُّ الإِسْلامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ" . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ" . قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ، هِجْرَةُ الْحَاضِرِ وَهِجْرَةُ الْبَادِي، أَمَّا الْبَادِي فَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ، وَأَمَّا الْحَاضِرُ فَهُوَ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ظلم کرنے سے بچو کیونکہ قیامت کے دن ظلم تاریکیوں کی شکل میں ہو گا اور فحش گفتگو سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ فحش گفتگو اور بدزبانی کا مظاہرہ کرنے والے شخص کو پسند نہیں کرتا اور کنجوسی سے بچو کیونکہ تم سے پہلے کے لوگوں کو کنجوسی نے ہلاکت کا شکار کیا تھا۔ اس نے انہیں رشتہ داری کے حقوق کی پامالی کی ترغیب دی تو ان لوگوں نے رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا، اس نے انہیں گناہ کرنے کی ترغیب دی تو انہوں نے گناہ کیا۔ اس نے انہیں کنجوسی کرنے کی ترغیب دی تو انہوں نے کنجوسی کی۔“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(یہ کہ) مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھوں سے محفوظ رہیں۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سی لاتعلقی زیادہ فضیلت رکھتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ کہ تم اس چیز سے لاتعلق ہو جاؤ جسے تمہارا پروردگار ناپسند کرتا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہجرت دو طرح کی ہوتی ہے: شہری کی ہجرت اور دیہاتی کی ہجرت؛ جہاں تک دیہاتی کی ہجرت کا تعلق ہے تو وہ یہ ہے کہ جب اسے بلایا جائے تو وہ آ جائے اور جب اسے حکم دیا جائے تو وہ اس کی فرمانبرداری کرے۔ جہاں تک شہری کی ہجرت کا تعلق ہے، اس میں آزمائش بڑی ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5176]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4863، 5176، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 26، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4176، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1698، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7912، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6598» «رقم طبعة با وزير 5154»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (858). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5176 in Urdu
عبد الله بن مالك الزبيدي ← عبد الله بن عمرو السهمي