صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
4. ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم الجار أحق بسقبه أراد به الجار الذي يكون شريكا دون الجار الذي لا يكون بشريك-
- یہ وضاحت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان "الجار أحق بسقبه" سے مراد وہ ہمسایہ ہے جو شریک ہو، نہ کہ عام پڑوسی۔
حدیث نمبر: 5181
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، فَجَاءَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ: اشْتَرِ مِنِّي بَيْتَيَّ اللَّذَيْنِ فِي دَارِكَ، فَقَالَ: لا، إِلا بِأَرْبَعَةِ آلافٍ مُنَجَّمَةٍ، أَوْ قَالَ: مُقَطَّعَةٍ، فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ، لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ" مَا بِعْتُكَهَا، لَقَدْ أُعْطِيتُ بِهَا خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ.
عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں: میں سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کے ہمراہ موجود تھا۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ انہوں نے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھ سے میرے وہ دو گھر خرید لیں جو آپ کے محلے میں ہیں، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں، میں اس شرط پر خریدوں گا کہ ان کی قیمت چار ہزار (درہم) ہو گی اور وہ بھی قسطوں میں ادا کی جائے گی (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)، تو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا: ”پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہوتا ہے“ تو میں وہ گھر آپ کو فروخت نہ کرتا کیونکہ مجھے اس کے پانچ سو دینار مل رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5181]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2258، 6977، 6978، وابن الجارود فى "المنتقى"، 702، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5180، 5181، 5183، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4716، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2495، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11693، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4526، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19768، والحميدي فى (مسنده) برقم: 562» «رقم طبعة با وزير 5158»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5181 in Urdu
عمرو بن الشريد الثقفي ← أبو رافع القبطي