صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
8. ذكر الخبر المفسر للألفاظ المجملة التي تقدم ذكرنا لها-
- یہ خبر جو ان مجمل الفاظ کی وضاحت کرتی ہے جن کا پہلے ذکر ہوا۔
حدیث نمبر: 5196
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الزُّرَقِيُّ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: " كُنَّا نُكْرِي الأَرْضَ، فَيَسْتَثْنِي صَاحِبَ الأَرْضِ مَا عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، فَيَهْلِكُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ رَافِعٌ: أَمَّا بِشَيْءٍ مَضْمُونٍ مَعْلُومٍ، فَلا بَأْسَ بِهِ".
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم زمین کرائے پر دیا کرتے تھے تو زمین کا مالک کھیت کے کسی مخصوص حصے کو اور پانی کی آمد کے آس پاس کی جگہ کو مستثنیٰ کر لیا کرتا تھا تو بعض اوقات ایک حصے کی پیداوار خراب ہو جاتی تھی اور ایک حصے کی ٹھیک رہتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: البتہ اگر کسی متعین چیز کے عوض میں (زمین کو ٹھیکے پر دیا جائے) تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب المزارعة/حدیث: 5196]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2286، 2327، 2332، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1536، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5191، 5193، 5194، 5196، 5197، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3389، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1384، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2450، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11811، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2940، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2117» «رقم طبعة با وزير 5173»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (5/ 299 - 300).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5196 in Urdu
حنظلة بن قيس الأنصاري ← رافع بن خديج الأنصاري