صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
75. باب الضيافة - ذكر الزجر عن أن يثوي الضيف عند من يضيفه حتى يحرجه-
مہمان نوازی کا بیان - یہ زجر کہ مہمان کو اس کے گھر پر ٹھہرانا اور اسے مجبور کرنا نہ کیا جائے
حدیث نمبر: 5287
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتَ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَالضِّيَافَةُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ" ، أَبُو شُرَيْحٍ الْكَعْبِيُّ: اسْمُهُ خُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو، مِنْ جِلَّةِ الصَّحَابَةِ، عِدَادُهُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ، مَاتَ سَنَةَ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ.
سیدنا ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے بھلائی کی بات کہنی چاہیے ورنہ خاموش رہنا چاہیے، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے۔ اہتمام کے ساتھ اس کی دعوت ایک دن اور ایک رات ہوگی، عام مہمان نوازی تین دن ہوگی اور جو اس کے بعد ہو وہ صدقہ شمار ہوگا۔ البتہ مہمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اتنے دن وہاں قیام کرے کہ میزبان کو حرج میں مبتلا کر دے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوشریح کعبی کا نام خویلد بن عمرو ہے، یہ جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں۔ ان کا شمار اہل حجاز میں ہوتا ہے، ان کا انتقال 86 ہجری میں ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الأطعمة/حدیث: 5287]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6019، 6135، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 48، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5287، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7389، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1967، 1968، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3672، 3675، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9270، 18756، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16632» «رقم طبعة با وزير 5263»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (8/ 162 / 2523): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5287 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← خويلد بن شريح الخزاعي