صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
232. باب المزاح والضحك - ذكر الزجر عن ضحك المرء عند خروج الصوت من أخيه المسلم-
مزاح اور ہنسی کا بیان - ذکر منع کہ انسان اپنے مسلمان بھائی کے آواز نکلنے پر ہنسے
حدیث نمبر: 5794
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ وَهُوَ يَذْكُرُ النَّاقَةَ، وَمَنْ عَقَرَهَا، فَقَالَ: " إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا سورة الشمس آية 12 انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَارِمٌ، عَزِيزٌ، مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ، مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ" . ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ، فَقَالَ:: " أَلا لِمَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا فِي آخِرِ يَوْمِهِ؟!" . ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي الضَّحِكِ مِنَ الضَّرْطَةِ، فَقَالَ :" أَلا لِمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ"؟! .
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدنا صالح علیہ السلام کی) اونٹنی اور اس کے پاؤں کاٹنے والے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ﴿إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا﴾ [سورة الشمس: 12] ”جب ان میں سے بدبخت ترین شخص اٹھا“، (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اس اونٹنی کے لیے وہ شخص اٹھا جو اپنے قبیلے میں ابوزمعہ کی طرح نمایاں، طاقتور اور بہتر حیثیت رکھتا تھا“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”خبردار! کوئی شخص اپنی بیوی کی پٹائی اس طرح کیوں کرتا ہے جس طرح غلام کو مارا جاتا ہے؟ حالانکہ اسی دن کے آخری حصے میں اس نے اس عورت کے ساتھ ہی لیٹنا ہوتا ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوا خارج ہونے پر ہنسنے کے حوالے سے لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ”خبردار! کوئی شخص ایسی بات پر کیوں ہنستا ہے جو وہ خود بھی کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5794]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3377، 4942، 5204، 6042، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2855، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4190، 5794، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3343، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1983، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14898، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16472» «رقم طبعة با وزير 5764»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2031)، «غاية المرام» (250).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 5794 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن زمعة القرشي