صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
4. ذكر ما يحكم لمن اصطاد الصيد فانفلت منه بشبكته فظفر به آخر غيره-
- ذکر اس حکم کا جو اس شخص کے لیے ہے جس نے شکار کیا اور وہ اس کے جال سے نکل گیا اور دوسرے نے اسے پکڑ لیا
حدیث نمبر: 5882
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيَّ ثُمَّ السُّلَمِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَالإِسْلامَ، يَقُولُ: " نَصَبْتُ حَبَائِلَ لِي بِالأَبْوَاءِ، فَوَقَعَ فِي حَبْلِي مِنْهَا ظَبْيٌ، فَأَفْلَتَ بِهِ، فَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ، فَوَجَدْتُ رَجُلا قَدْ أَخَذَهُ، فَتَنَازَعْنَا فِيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْنَاهُ نَازِلا بِالأَبْوَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ يَسْتَظِلُّ بِنِطَعٍ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَيهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا شَطْرَيْنَ" . قُلْتُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَلْقَى الإِبِلَ، وَبِهَا لَبُونٌ، وَهِيَ مُصَرَّاةٌ، وَهُمْ مُحْتَاجُونَ، قَالَ: " فَنَادِ صَاحِبَ الإِبِلِ ثَلاثًا، فَإِنْ جَاءَ، وَإِلا فَاحْلُلْ صِرَارَهَا، ثُمَّ اشْرَبْ، ثُمَّ صُرَّ، وَأَبْقِ لِلَّبَنِ دَوَاعِيَهُ" . قُلْتُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الضَّوَالُّ تَرِدُ عَلَيْنَا، هَلْ لَنَا أَجْرٌ أَنْ نَسْقِيَهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ" . ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا، قَالَ: " سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، خَيْرُ الْمَالِ فِيهِ غَنَمٌ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ، تَأْكُلُ مِنَ الشَّجَرِ، وَتَرِدُ الْمَاءَ، يَأْكُلُ صَاحِبُهَا مِنْ رِسْلِهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ لِبَانِهَا، وَيَلْبسُ مِنْ أَصْوَافَهَا، أَوْ قَالَ: مِنَ أَشْعَارِهَا، وَالْفِتَنُ تَرْتَكِسُ بَيْنَ جَرَاثِيمِ الْعَرَبِ، وَاللَّهِ" . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي، قَالَ: " أَقِمِ الصَّلاةَ، وَآتِ الزَّكَاةَ، وَصُمْ رَمَضَانَ، وَحُجَّ الْبَيْتَ، وَاعْتَمِرْ، وَبِرَّ وَالِدَيْكَ، وَصِلْ رَحِمَكَ، وَاقْرِ الضَّيْفَ، وَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَزُلْ مَعَ الْحَقِّ حَيْثُ زَالَ" .
قاسم بن مخول بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا، انہیں زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں کو دیکھنے کا موقع ملا ہے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے ابواء کے مقام پر کچھ رسیاں باندھ دیں، ان رسیوں میں ایک ہرن پھنس گیا، پھر وہ وہاں سے نکل گیا، میں اس کی تلاش میں نکلا تو مجھے ایک شخص ملا جس نے اسے پکڑ لیا تھا، ہم اس ہرن کے بارے میں اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابواء میں ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کے ٹکڑے کے ذریعے سایہ کیا ہوا تھا، ہم نے اپنا مقدمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ ”وہ تم دونوں کے درمیان برابر تقسیم ہوگا۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بعض اوقات ہمیں کچھ اونٹ ملتے ہیں جن میں دودھ والی اونٹنیاں بھی ہوتی ہیں جن کے تھنوں میں دودھ رکا ہوا ہوتا ہے اور ہمیں اس کی شدید ضرورت بھی ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تین مرتبہ اونٹوں کے مالک کو پکارو، اگر وہ آ جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ اس کا دودھ دوہ کر پی لو اور پھر دوہ لو اور پھر کچھ دودھ (اس کے تھنوں میں) باقی رہنے دو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بعض اوقات کوئی دوسرا جانور ہمارے پاس آ جاتا ہے، تو اگر ہم اسے کچھ پلاتے ہیں تو کیا ہمیں اس کا اجر ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں، ہر جاندار کے ساتھ (اچھائی کرنے کا اجر ملتا ہے)۔“ پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ بات چیت کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ جب سب سے بہترین مال بکریاں ہوں گی جو دو سجدوں کے درمیان ہوں گی، وہ درختوں سے (پتے) کھا لیں گی، پانی تک آ جائیں گی، ان کا مالک ان کے پیچھے پیچھے آئے گا اور ان کا دودھ پی لے گا، ان کی اون کے ذریعے کپڑے پہنے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان کے بالوں کے ذریعے کپڑے پہنے گا، جبکہ اللہ کی قسم! فتنے عربوں کے اندر سرایت کر چکے ہوں گے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس بارے میں تلقین کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نماز ادا کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو اور عمرہ کرو، اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھو، مہمان کی عزت افزائی کرو، نیکی کا حکم دو، برائی سے منع کرو اور حق کے ساتھ رہو خواہ وہ جہاں بھی ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصيد/حدیث: 5882]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5882، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7277، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19719، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1568» «رقم طبعة با وزير 5852»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (3501). * [الْقَاسِمَ بْنَ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيَّ] قال الشيخ: القاسم - هذا - مَجهولٌ لا يُعرَفُ إِلاَّ برواية مُحمَّد بن سليمان بن مسمول - هذا - وهو ضعيف؛ كما صرَّح الحافظ وغيره. ولذلك أوردت الحديث في «ضعيف الجامع»، ووقع هناك في أصله: «الجامع» معزوّا لـ (تخ، ك) عن ابن عباس، وهو كذلك في «الجامع الكبير»، وهو وَهَمٌ في اسم الصحابي؛ فاقتضى التنبيه عليه ثَمَّةَ؛ فإِنَّه في «تاريخ البخاري» (4/ 2 / 30)، والحاكم (4/ 134) مِنَ الوجه المذكور هنا: مِنْ حديث مُخَوَّلٍ البهزي، لا ابن عباس. وسكت عنه الحاكم والذهبيُّ على ما في مطبوعة «المستدرك»! لكنَّ الظاهرَ أَنَّ فيه سقطاً، فقد ذَكَرَ المُناوِيُّ أَنَّ الحاكم صحَّحه، وأنَّه اغترَّ به السيوطي، فرمز لِصِحَّتِه، وما درى أنَّ الذهبي ردَّ على الحاكم تصحيحه؛ بأنَّ فيه ابن مسمول؛ ضعيف.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥مخول بن يزيد البهزي، أبو القاسم | صحابي | |
👤←👥القاسم بن مخول البهزي القاسم بن مخول البهزي ← مخول بن يزيد البهزي | مقبول | |
👤←👥محمد بن سليمان المسمولي محمد بن سليمان المسمولي ← القاسم بن مخول البهزي | ضعيف الحديث | |
👤←👥محمد بن عباد المكي، أبو عبد الله محمد بن عباد المكي ← محمد بن سليمان المسمولي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى أبو يعلى الموصلي ← محمد بن عباد المكي | ثقة مأمون |
Sahih Ibn Hibban Hadith 5882 in Urdu
القاسم بن مخول البهزي ← مخول بن يزيد البهزي