صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
118. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عن أول من سيب السوائب في الجاهلية-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ جاہلیت میں سب سے پہلے کس نے سوائب چھوڑیں
حدیث نمبر: 6260
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُفْيَانَ النَّسَائِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَةً فِي النَّارِ، وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ" ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: السَّائِبَةُ: الَّتِي كَانَتْ تُسَيَّبُ، فَلا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ، وَالْبَحِيرَةُ: الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ، فَلا يَحْتَلِبُهَا أَحَدٌ، وَالْوَصِيلَةُ: النَّاقَةُ الْبِكْرُ، تُبَكِّرُ فِي أَوَّلِ نِتَاجِ الإِِبِلِ بِأُنْثَى، ثُمَّ تُثَنِّي بِأُنْثَى، فَكَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِلطَّوَاغِيتِ، وَيَدْعُونَهَا الْوَصِيلَةَ أَنْ وَصَلَتْ إِِحْدَاهُمَا بِالأُخْرَى، وَالْحَامُ: فَحْلُ الإِِبِلِ، يَضْرِبُ الْعَشْرَ مِنَ الإِِبِلِ، فَإِِذَا قَضَى ضِرَابَهُ جَدَعُوهُ لِلطَّوَاغِيتِ، وَأَعْفَوْهُ مِنَ الْحَمْلِ، فَلَمْ يَحْمِلُوا عَلَيْهِ شَيْئًا، وَسَمَّوْهُ الْحَامَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا۔ یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے بتوں کے نام پر جانور مخصوص کرنے کا آغاز کیا۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں: سائبہ اس جانور کو کہتے ہیں، جس کو بت کے نام پر مخصوص کر دیا جائے اور اس پر وزن نہ لادا جائے۔ بحیرہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کا دودھ بتوں کے لئے مخصوص کر دیا جائے کوئی آدمی اس کا دودھ نہیں دوہ سکتا۔ وصیلہ اس جوان اونٹنی کو کہتے ہیں، جس کے ہاں پہلی مرتبہ اونٹنی ہوتی ہے اور دوسری مرتبہ بھی اونٹنی ہوتی ہے۔ وہ اس اونٹنی کو بتوں کے لئے مخصوص کر دیتے تھے اور اسے وصیلہ کہتے تھے کیونکہ ان میں ایک دوسری کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی تھی (یعنی درمیان میں کوئی نر جانور نہیں ہوتا تھا) حام سے مراد وہ نر اونٹ ہے جسے دس مرتبہ جفتی کروائی گئی ہو، جب وہ جفتی کا کام مکمل کر لیتا، تو وہ لوگ اسے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اور اس پر سامان نہیں لادتے تھے وہ اس پر کوئی چیز نہیں لادتے تھے اور اس کا نام حام رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6260]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6227»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1677): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥يزيد بن الهاد الليثي، أبو عبد الله يزيد بن الهاد الليثي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة مكثر | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← يزيد بن الهاد الليثي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥يحيى بن بكير القرشي، أبو زكريا يحيى بن بكير القرشي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة | |
👤←👥أحمد بن سفيان النسائي، أبو سفيان أحمد بن سفيان النسائي ← يحيى بن بكير القرشي | صدوق مصنف | |
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس الحسن بن سفيان الشيباني ← أحمد بن سفيان النسائي | ثقة |
سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي