صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
187. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر قراءة المصطفى صلى الله عليه وسلم والليل إذا يغشى والنهار إذا تجلى-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے "والليل إذا يغشى والنهار إذا تجلى" پڑھا
حدیث نمبر: 6330
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَدِمْتُ الشَّامَ، فَأُخْبِرَ أَبُو الدَّرْدَاءِ ، فَأَتَانَا، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ يَقْرَأُ عَلَيَّ قِرَاءَةَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ؟"، قَالَ: قُلْنَا: كُلُّنَا نَقْرَأُ، قَالَ:" أَيُّكُمْ أَقْرَأُ؟"، قَالَ: فَأَشَارَ أَصْحَابِي إِِلَيَّ، قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ:" أَحَفِظْتَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1؟"، قُلْتُ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنْثَى سورة الليل آية 1 - 3، فَقَالَ:" أَنْتَ حَفِظْتُهَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" وَأَنَا وَالَّذِي لا إِِلَهَ غَيْرُهُ هَكَذَا سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَؤُلاءِ يُرِيدُونَ وَاللَّهِ لا أُتَابِعُهُمْ أَبَدًا" .
علقمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں شام آیا، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ملی تو وہ ہمارے پاس تشریف لے آئے، تو انہوں نے دریافت کیا: ”تم میں سے کون شخص میرے سامنے ”ابنِ امِ عبد“ کے طریقے کے مطابق تلاوت کر سکتا ہے؟“ راوی کہتے ہیں: ہم نے جواب دیا: ”ہم سب کر سکتے ہیں۔“ انہوں نے دریافت کیا: ”تم میں قرأت کا سب سے زیادہ علم کس کو ہے؟“ راوی کہتے ہیں: میرے ساتھیوں نے میری طرف اشارہ کیا۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”تمہیں یاد ہے؟“ میں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے دریافت کیا: ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سورۃ اللیل کیسے پڑھتے تھے؟“ میں نے کہا: یوں پڑھتے تھے: ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلّٰى وَالذَّكَرِ وَالْأُنثٰى﴾ [سورة الليل: 1-3] انہوں نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ الفاظ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یاد ہیں؟“ میں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، میں نے بھی یہ الفاظ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سیکھے ہیں، لیکن یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں (دوسرے الفاظ کے ذریعے تلاوت کروں) اللہ کی قسم! میں تو ان کی بات کبھی نہیں مانوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6330]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3287، 3742، 3743، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 824، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6330، 6331، 7127، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5424، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8241، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2939، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28182، والحميدي فى (مسنده) برقم: 400» «رقم طبعة با وزير 6296»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (4943 و 4944)، م (2/ 206).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6330 in Urdu
علقمة بن قيس النخعي ← عويمر بن مالك الأنصاري