صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
45. باب الخوف والتقوى - ذكر الإخبار عن الخصال التي يجب على المرء تفقدها من نفسه حذر إيجاب النار له بارتكاب بعضها
خوف اور تقویٰ کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذات سے ان خصلتوں کی جانچ کرے تاکہ ان میں سے بعض کے ارتکاب سے جہنم کا واجب ہونے سے بچے
حدیث نمبر: 653
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلاءُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، أَخُو مُطَرِّفٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي رَجُلانِ آخَرَانِ أَنَّ مُطَرِّفًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ عِيَاضَ بْنَ حِمَارٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ:" إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا، إِنَّ كُلَّ مَا أَنْحَلْتُهُ عَبْدِي حَلالٌ، وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وَإِنَّهُ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، فَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا، وَإِنَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ، فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ، غَيْرَ بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فقَالَ يَا مُحَمَّدُ: إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَأُنْزِلَ عَلَيْكَ كِتَابًا لا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ، تَقْرَؤُهُ يَقْظَانَ وَنَائِمًا، وَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا أَمَرَنِي أَنْ أُخْبِرَ قُرَيْشًا، فَقُلْتُ: إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَتْرُكُوهُ خُبْزَةً، قَالَ: فَاسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ، وَاغْزُهُمْ يَسْتَغْزُوكَ، وَأَنْفِقْ يُنْفَقْ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً أَمْثَالَهُمْ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ وَقَالَ: أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ثَلاثَةٌ: إِمَامٌ مُقْسِطٌ مُصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ بِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ، وَرَجُلٌ عَفِيفٌ فَقِيرٌ مُصَّدِّقٌ وَقَالَ: أَصْحَابُ النَّارِ خَمْسَةٌ: رَجُلٌ جَائِرٌ لا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ، وَرَجُلٌ لا يُمْسِي وَلا يُصْبِحُ إِلا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ، وَالضَّعِيفُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ لا يَبْغُونَ أَهْلا وَلا مَالا"، فقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَمِنَ الْمَوَالِي هُوَ، أَوْ مِنَ الْعَرَبِ؟ قَالَ: هُوَ التَّابِعَةُ يَكُونُ لِلرَّجُلِ فَيُصِيبُ مِنْ حُرْمَتِهِ سِفَاحًا غَيْرَ نِكَاحٍ وَالشِّنْظِيرُ: الْفَاحِشُ وَذَكَرَ الْبُخْلَ وَالْكَذِبَ" .
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبے کے دوران یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ اس نے مجھے جن چیزوں کا علم دیا ہے اور تم ان سے ناواقف ہو، آج میں اس جگہ تمہیں ان چیزوں کی تعلیم دے دوں۔ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) ہر وہ چیز جو میں نے اپنے بندے کو عطیے کے طور پر دی ہے وہ حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو حنیف (مسلمان) پیدا کیا ہے، پھر شیاطین ان کے پاس آتے ہیں اور ان کے دین کے حوالے سے انہیں گمراہ کر دیتے ہیں اور ان کے لیے ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں جو میں نے ان کے لیے حلال قرار دی ہیں اور انہیں اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ وہ کسی کو میرا شریک بنا دیں حالانکہ میں نے اس بارے میں کوئی مضبوط دلیل نازل نہیں کی ہے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ”اللہ تعالیٰ اہل زمین کی طرف دیکھ کر تمام اہل عرب اور عجمیوں پر ناراض ہوا، سوائے اہل کتاب میں سے باقی رہ جانے والے چند لوگوں کے، پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے محمد! میں نے تمہیں اس لیے مبعوث کیا ہے، تاکہ میں تمہیں آزمائش میں مبتلا کروں اور تمہاری وجہ سے لوگوں کو آزماؤں اور میں نے تم پر ایک کتاب نازل کی ہے، جسے پانی دھو نہیں سکے گا (یعنی وہ بالکل ختم نہیں ہو گی)، بیدار شخص اور سویا ہوا شخص اس کی تلاوت کرے گا۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ”مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں قریش کو جلا دوں (یعنی ان سے قتال کروں)، میں نے عرض کی: اے میرے رب! اس صورت میں تو وہ لوگ میرا سر کچل دیں گے اور وہ اسے (پیس کر) روٹی بنا دیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم بھی انہیں نکالنے پر مجبور کرو جس طرح انہوں نے تم کو نکلنے پر مجبور کیا تھا، اور تم ان کے ساتھ جنگ کرو ہم تمہاری مدد کریں گے، اور تم خرچ کرو تم پر خرچ کیا جائے گا، اور تم ایک لشکر کو بھیجو ہم اس کے پانچ گنا مزید بھیج دیں گے، اور جو شخص تمہاری فرمانبرداری کرتا ہے اس کے ساتھ مل کر اس شخص کے ساتھ جنگ کرو جو تمہاری نافرمانی کرتا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت تین قسم کے ہیں۔ ایسا امام جو عادل ہو، تصدیق کرنے والا ہو اور اسے خیر کی توفیق دی گئی ہو، ایک وہ شخص جو مہربان ہو، رقیق القلب ہو، ہر قریبی رشتہ دار اور ہر مسلمان کے لیے (نرم دل ہو)، اور ایک وہ شخص جو پاک دامن ہو، عیال دار (غریب) ہو اور سوال نہ کرنے والا ہو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جہنم پانچ قسم کے ہیں۔ وہ کمزور جس میں سمجھ بوجھ نہ ہو، جو تمہارے تابع ہیں، وہ نہ اہل طلب کرتے ہیں اور نہ مال (یعنی تمہارے ہی ٹکڑوں پر پلنے والے ہیں)، ایسا خیانت کار جس کا لالچ پوشیدہ نہ ہو خواہ وہ بہت ہی معمولی سی چیز ہو اس میں خیانت کرے، اور ایسا شخص جو صبح و شام تمہارے اہل اور تمہارے مال کے بارے میں تمہیں دھوکا دیتا ہو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل اور جھوٹ کا ذکر کیا، اور ” «الشَّنْظِيرُ» ”بدزبان اور فحش گو“ کا تذکرہ کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 653]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2865، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 653، 654، 7453، 7482، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7097، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8016، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4895، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4179، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17756» «رقم طبعة با وزير 652»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (17): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الصحيح غير العلاء بن زياد، فقد روى له النسائي وابن ماجة، وهو ثقة.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 653 in Urdu
مطرف بن عبد الله الحرشي ← عياض بن حمار المجاشعي