صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
399. باب تبليغه صلى الله عليه وسلم الرسالة وما لقي من قومه - ذكر تفريق المصطفى صلى الله عليه وسلم بين الحق والباطل بالرسالة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامِ رسالت پہنچانے اور اپنی قوم سے پیش آنے والے حالات کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت کے ذریعے حق اور باطل کے درمیان فرق کیا
حدیث نمبر: 6552
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ عُمَرَوٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَلَسْنَا إِِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ يَوْمًا، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ، فَقَالَ:" طُوبَى لِهَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ لَوَدِدْنَا أَنَّا رَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ، وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتَ، فَاسْتُغْضِبَ، فَجَعَلَتْ أَعْجَبُ، مَا قَالَ إِِلا خَيْرًا، ثُمَّ أَقْبَلَ إِِلَيْهِ، فَقَالَ: مَا يَحْمِلُ الرَّجُلَ عَلَى أَنْ يَتَمَنَّى مُحْضَرًا غَيَّبَهُ اللَّهُ عَنْهُ، لا يَدْرِي لَوْ شَهِدَهُ كَيْفَ كَانَ يَكُونُ فِيهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْوَامٌ أَكَبَّهُمُ اللَّهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ لَمْ يُجِيبُوهُ، وَلَمْ يُصَدِّقُوهُ، أَوَلا تَحْمَدُونَ اللَّهَ إِِذْ أَخْرَجَكُمْ تَعْرِفُونَ رَبَّكُمْ، مُصَدِّقِينَ لِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ كُفِيتُمُ الْبَلاءَ بِغَيْرِكُمْ؟ وَاللَّهِ لَقَدْ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَشَدِّ حَالٍ بُعِثَ عَلَيْهَا نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ، وَفَتْرَةٍ وَجَاهِلِيَّةٍ مَا يَرَوْنَ أَنَّ دَيْنًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الأَوْثَانِ، فَجَاءَ بِفُرْقَانٍ فَرَّقَ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، وَفَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ، حَتَّى إِِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَرَى وَلَدَهُ أَوْ وَالِدَهُ أَوْ أَخَاهُ كَافِرًا، وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ قُفْلَ قَلْبِهِ لِلإِِيمَانِ يَعْلَمُ أَنَّهُ إِِنْ هَلَكَ دَخَلَ النَّارَ، فَلا تَقَرُّ عَيْنُهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ، وَأَنَّهَا الَّتِي قَالَ اللَّهُ: الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ سورة الفرقان آية 74" .
عبدالرحمن بن جبیر رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دن ہم سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس سے گزرا اور کہنے لگا: ان دونوں آنکھوں کے لیے مبارک باد ہے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ اللہ کی قسم! ہماری تو یہ خواہش تھی کہ کاش ہم نے بھی وہی کچھ دیکھا ہوتا جو آپ نے دیکھا اور ہم بھی ان کے ساتھ حاضر ہوتے جن کے ساتھ آپ حاضر رہے، تو سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے، میں اس پر بہت حیران ہوا کیونکہ اس شخص نے تو اچھی بات ہی کہی تھی، پھر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کسی شخص کو کون سی بات اس بات پر ابھارتی ہے کہ وہ اس منظر میں حاضر ہونے کی تمنا کرے جسے اللہ تعالیٰ نے اس سے غائب (محفوظ) رکھا ہے؟ وہ نہیں جانتا کہ اگر وہ اس وقت موجود ہوتا تو اس کی کیا صورت حال ہوتی؟ اللہ کی قسم! بیشک کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے نتھنوں کے بل جہنم میں اوندھا کر دیا، اس لیے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول نہیں کیا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی۔ کیا تم لوگ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان نہیں کرتے کہ اس نے جب تمہیں پیدا کیا تو تم اپنے پروردگار کی معرفت رکھتے ہو اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لے کر آئے تم اس کی تصدیق کرنے والے ہو، جبکہ تمہارے علاوہ دوسرے لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کیا گیا؟ اللہ کی قسم! جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو کسی بھی نبی کو ایسی شدید صورت حال میں مبعوث نہیں کیا گیا جیسی صورت حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا گیا، یعنی (انبیاء کی آمد کے درمیان) وقفہ آ چکا تھا اور جاہلیت کا زمانہ تھا۔ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بتوں کی عبادت کرنے سے بہتر کوئی اور دین نہیں ہے، پھر فرق کرنے والی (کتاب یا اسلام) آئی جس نے حق اور باطل کے درمیان فرق کیا، اور اس نے باپ اور اس کی اولاد کے درمیان علیحدگی کروا دی، یہاں تک کہ ایک شخص اپنی اولاد یا اپنے والد یا اپنے بھائی کو کافر دیکھتا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے کھول دیا تھا۔ وہ یہ بات جانتا تھا کہ اگر اس کا کوئی قریبی رشتہ دار (کفر کی حالت میں) ہلاک ہوا تو جہنم میں جائے گا، تو اس کی آنکھ اس بات پر کیسے ٹھنڈی ہو سکتی تھی جبکہ وہ یہ جانتا تھا کہ اس کی محبوب ہستی جہنم میں جائے گی؟ یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ﴾ [سورة الفرقان: 74] ”اور وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6552]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6552، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24333، والطبراني فى(الكبير) برقم: 600» «رقم طبعة با وزير 6518»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2823).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
Sahih Ibn Hibban Hadith 6552 in Urdu