صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
465. باب وفاته صلى الله عليه وسلم - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به عبد الرزاق عن معمر-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال (وفات) کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف عبد الرزاق نے معمر سے روایت کی
حدیث نمبر: 6622
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا تَغَشَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَرْبُ كَانَ رَأْسُهُ فِي حِجْرِ فَاطِمَةَ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: وَا كَرْبَاهُ لِكَرْبِكَ الْيَوْمَ يَا أَبَتَاهُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " لا كَرْبَ عَلَى أَبِيكِ بَعْدَ الْيَوْمِ يَا فَاطِمَةُ" ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ قَالَتْ فَاطِمَةُ: وَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ، وَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، وَا أَبَتَاهُ إِِلَى جَنَّةِ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ، وَا أَبَتَاهُ إِِلَى جِبْرِيلَ أَنْعَاهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا دَفَنَّاهُ، مَرَرْتُ بِمَنْزِلِ فَاطِمَةَ، فَقَالَتْ: يَا أَنَسُ، أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ التُّرَابَ؟.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف زیادہ ہو گئی تو آپ کا سر اس وقت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ابا جان! آپ کو آج کتنی تکلیف ہو رہی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: ”اے فاطمہ! آج کے بعد تمہارے باپ کو کبھی کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے ابا جان! آپ نے اپنے پروردگار کی پکار پر لبیک کہا؛ ہائے ابا جان! آپ کو اپنے پروردگار کی بارگاہ میں کتنا قرب حاصل تھا؛ ہائے ابا جان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانہ ہے؛ ہائے ابا جان! سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو ہم آپ کے وصال کی اطلاع دیتے ہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کر دیا تو میرا گزر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس سے ہوا، انہوں نے فرمایا: اے انس! تم نے کیسے یہ برداشت کیا کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو؟ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6622]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4462، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6613، 6621، 6622، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1412، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1629، 1630، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6829، 7262، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12629» «رقم طبعة با وزير 6588»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (466)، «مختصر الشمائل» (334): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← ثابت بن أسلم البناني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥عمران بن موسى الجرجاني، أبو إسحاق عمران بن موسى الجرجاني ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة ثبت |
Sahih Ibn Hibban Hadith 6622 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري