🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
488. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر وصف قراءة علي رضي الله عنه سورة براءة على الناس-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر وصف کہ علی رضی اللہ عنہ نے سورہ براءت لوگوں پر پڑھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6645
أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُمْ حِينَ رَجَعُوا إِِلَى الْمَدِينَةِ مِنْ عُمْرَةِ الْجِعْرَانَةِ، بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْحَجِّ، فَأَقْبَلْنَا مَعَهُ، حَتَّى إِِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ ثَوَّبَ بِالصُّبْحِ، فَلَمَّا اسْتَوَى لِلتَّكْبِيرِ، سَمِعَ الرَّغْوَةَ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَوَقَفَ عَنِ التَّكْبِيرِ، فَقَالَ: هَذِهِ رَغْوَةُ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدْعَاءِ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُصَلِّيَ مَعَهُ، فَإِِذَا عَلِيٌّ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: أَمِيرٌ أَنْتَ أَمْ رَسُولٌ؟ قَالَ: لا، بَلْ رَسُولٌ، " أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةَ أَقْرَؤُهَا عَلَى النَّاسِ فِي مَوَاقِفِ الْحَجِّ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ، فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ، قَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَخَطَبَ النَّاسَ حَتَّى إِِذَا فَرَغَ، قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ بِبَرَاءَةَ حَتَّى خَتَمَهَا، ثُمَّ خَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَخَطَبَ النَّاسَ يُعَلِّمُهُمْ مَنَاسِكَهُمْ حَتَّى إِِذَا فَرَغَ، قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةً حَتَّى خَتَمَهَا، ثُمَّ كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَأَفَضْنَا، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو بَكْرٍ خَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ إِِفَاضَتِهِمْ وَعَنْ نَحْرِهِمْ وَعَنْ مَنَاسِكِهِمْ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةَ حَتَّى خَتَمَهَا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ الأَوَّلِ، قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ كَيْفَ يَنْفِرُونَ وَكَيْفَ يَرْمُونَ وَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ، فَقَرَأَ بَرَاءَةَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى خَتَمَهَا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ لوگ جعرانہ سے عمرہ کرنے کے بعد مدینہ منورہ کی طرف واپس گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیرِ حج بنا کر بھیجا، ہم لوگ ان کے ساتھ آ گئے، یہاں تک کہ جب ہم عرج کے مقام پر پہنچے تو صبح کی نماز کے لیے اقامت کہی گئی، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہنے کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے اپنی پشت کے پیچھے اونٹنی کی آواز سنی۔ وہ تکبیر کہنے سے رک گئے۔ انہوں نے کہا: یہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی «الْجَدْعَاءُ» کی مخصوص آواز ہے، شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہوں، تو ہم آپ کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے، لیکن اس اونٹنی پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سوار تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: کیا آپ امیر کے طور پر آئے ہیں یا قاصد کے طور پر آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں بلکہ قاصد کے طور پر آیا ہوں، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بَرَاءَةٌ» (برأت) کے ہمراہ بھیجا ہے جسے میں حج کے موقع پر لوگوں کے سامنے پڑھ دوں گا۔ (راوی کہتے ہیں:) پھر ہم لوگ مکہ آ گئے، ترویہ سے ایک دن پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا (حج کے احکام بیان کیے)، جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے سورۃ التوبہ کی تلاوت کی اور اسے مکمل طور پر ختم کیا، پھر ہم لوگ ان کے ہمراہ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب عرفہ کا دن آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور انہیں مناسکِ حج کی تعلیم دی۔ جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ التوبہ کی تلاوت کی یہاں تک کہ اسے مکمل طور پر ختم کیا، پھر جب قربانی کا دن آیا اور ہم لوگ واپس آئے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور انہیں واپس جانے کے بارے میں بتایا اور قربانی کے بارے میں اور دیگر مناسک کے بارے میں بتایا، جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ «بَرَاءَةٌ» کی تلاوت کی، یہاں تک کہ اسے مکمل ختم کیا۔ جب پہلی روانگی کا دن آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا، انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ کیسے روانہ ہوں گے اور کیسے رمی کریں گے، انہوں نے لوگوں کو مناسکِ حج کی تعلیم دی، جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ التوبہ کی تلاوت کی، یہاں تک کہ اسے مکمل تلاوت کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6645]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2974، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6645، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2993، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3970، 8409، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1956، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9532، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 3590» «رقم طبعة با وزير 6611»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف الإسناد - «التعليق على ابن خزيمة» (2974).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥عبد الله بن عثمان القاري، أبو عثمان
Newعبد الله بن عثمان القاري ← محمد بن مسلم القرشي
مقبول
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عبد الله بن عثمان القاري
ثقة
👤←👥موسى بن طارق اليماني، أبو قرة
Newموسى بن طارق اليماني ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥المفضل بن محمد الشعبى، أبو سعيد
Newالمفضل بن محمد الشعبى ← موسى بن طارق اليماني
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 6645 in Urdu