صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
629. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر العلامة الثالثة التي تظهر في العرب عند خروج الدجال من وثاقه كفانا الله وكل مسلم شره وفتنته-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر تیسری علامت جو عربوں میں دجال کے بندھن سے نکلنے پر ظاہر ہوگی، اللہ ہمیں اور ہر مسلمان کو اس کے شر اور فتنے سے بچائے
حدیث نمبر: 6789
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ مُسْرِعًا، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَنُودِيَ فِي النَّاسِ الصَّلاةُ جَامِعَةً، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِِنِّي لَمْ أَدْعُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلا لِرَهْبَةٍ نَزَلَتْ، وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ رَكِبُوا الْبَحْرَ، فَقَذَفَتْهُمُ الرِّيحُ إِِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، فَإِِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ لا يُدْرَى أَذَكَرٌ هُوَ أَمْ أُنْثَى مِنْ كَثْرَةِ الشَّعْرِ، فَقَالُوا: مَنْ أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قَالُوا: أَخْبِرِينَا؟ قَالَتْ: مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ وَلا مُسْتَخْبِرَتِكُمْ، وَلَكِنَّ هَا هُنَا مَنْ هُوَ فَقِيرٌ إِِلَى أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَإِِلَى أَنْ يَسْتَخْبِرَكُمْ، فَأَتَوَا الدَّيْرَ، فَإِِذَا بِرَجُلٍ مَرِيرٍ مُصَفَّدٍ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ الْعَرَبُ، قَالَ: هَلْ بُعِثَ النَّبِيُّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ تَبِعَتْهُ الْعَرَبُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ، قَالَ: مَا فَعَلَتْ فَارِسُ؟ قَالُوا: لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهَا، قَالَ: أَمَا إِِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ؟ قَالُوا: تَدَفَّقُ مَلأَى، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ؟ قَالُوا: قَدْ أَطْعَمَ أَوَائِلُهُ، فَوَثَبَ عَلَيْهِ وَثْبَةً، حَتَّى خَشِينَا أَنْ سَيَغْلِبَ، فَقُلْنَا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ، أَمَا إِِنِّي سَأَطَأُ الأَرْضَ كُلَّهَا إِِلا مَكَّةَ وَطَيْبَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْشِرُوا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، هَذِهِ طَيْبَةُ لا يَدْخُلُهَا" .
امام شعبی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور لوگوں میں یہ اعلان کیا کہ: ”اکٹھے ہو جاؤ“، تو لوگ اکٹھے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں نے تمہیں کسی رغبت یا کسی پریشانی کے نازل ہونے کی وجہ سے نہیں بلایا ہے، البتہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ فلسطین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ سمندری سفر پر روانہ ہوئے، تو ہوا نے انہیں سمندر میں موجود کسی جزیرے تک پہنچا دیا، وہاں ایک جانور موجود تھا جس کا یہ پتا نہیں چلتا تھا کہ وہ مذکر ہے یا مؤنث ہے کیونکہ اس کے جسم پر بال بہت زیادہ تھے، تو میں نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا: میں «الْجَسَّاسَةُ» ”جساسہ“ ہوں۔ ان لوگوں نے کہا: تم ہمیں کسی چیز کے بارے میں بتاؤ، تو اس نے کہا: میں تمہیں کسی چیز کے بارے میں نہیں بتاؤں گی اور نہ ہی تم سے کسی چیز کے بارے میں معلوم کروں گی، البتہ وہاں ایک شخص ہے جو اس بات کا محتاج ہے کہ وہ تمہیں کوئی اطلاع دے اور اس بات کا بھی ضرورت مند ہے کہ تم سے کسی چیز کے بارے میں معلوم کرے، تو وہ اس عبادت خانے تک آئے، وہاں ایک شخص تھا جو لوہے کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ ان لوگوں نے جواب دیا: ہم عرب ہیں۔ اس نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو گئے ہیں؟ ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: کیا عربوں نے ان کی پیروی کر لی ہے؟ ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! اس نے کہا: یہ ان لوگوں کے حق میں بہتر ہے، پھر اس نے دریافت کیا: اہل فارس کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: وہ ابھی اس پر غالب نہیں آئے۔ اس نے کہا: وہ عنقریب اہل فارس پر غالب آ جائیں گے، پھر اس نے دریافت کیا: «زُغَرَ» ”زغر“ کے چشمے کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: اس کے کنارے بھرے ہوئے ہیں۔ اس نے دریافت کیا: «بَيْسَانَ» ”بیسان“ کے نخلستان کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: وہ پیداوار دے رہا ہے، پھر وہ شخص اچھلا، یہاں تک کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ غالب آ جائے گا (یعنی اپنے آپ کو چھڑا لے گا)، ہم نے کہا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں دجال ہوں، میں ساری روئے زمین کو روند دوں گا البتہ مکہ اور «طَيْبَةُ» ”طیبہ“ (نہیں جا سکوں گا)۔“ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمانوں کے گروہ! تمہیں خوشخبری ہے کہ یہ (مدینہ منورہ) «طَيْبَةُ» ”طیبہ“ ہے، وہ (دجال) اس میں داخل نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6789]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2942، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3730، 6787، 6788، 6789، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4244، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4325، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2253، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4074، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27743» «رقم طبعة با وزير 6751»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «قصة المسيح - عليه السلام -» (ص 42 - 43): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥فاطمة بنت قيس الفهرية | صحابية | |
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو عامر الشعبي ← فاطمة بنت قيس الفهرية | ثقة | |
👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكر داود بن أبي هند القشيري ← عامر الشعبي | ثقة متقن | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← داود بن أبي هند القشيري | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥أحمد بن يحيى البصري أحمد بن يحيى البصري ← حماد بن سلمة البصري | متروك الحديث | |
👤←👥الفضل بن الحباب الجمحي، أبو خليفة الفضل بن الحباب الجمحي ← أحمد بن يحيى البصري | ثقة ثبت |
Sahih Ibn Hibban Hadith 6789 in Urdu
عامر الشعبي ← فاطمة بنت قيس الفهرية