یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
684. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر أمارة يستدل بها على قيام الساعة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر وہ علامت جس سے قیامت کے قیام کی دلیل ملتی ہے
حدیث نمبر: 6844
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي زُفَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَرْدَكَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ وَالِبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالْبُخْلُ، وَيُخَوَّنَ الأَمِينُ، وَيُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ، وَيَهْلِكَ الْوُعُولُ، وَتَظْهَرَ التَّحُوتُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْوُعُولُ وَالتَّحُوتُ؟ قَالَ:" الْوُعُولُ: وجُوهُ النَّاسِ وَأَشْرَافُهُمْ، وَالتَّحُوتُ: الَّذِينَ كَانُوا تَحْتَ أَقْدَامِ النَّاسِ لا يُعْلَمُ بِهِمْ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: سَمِعَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ إِِذَا ذَاكَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک فحاشی، کنجوسی عام نہیں ہو جاتے۔ امین شخص کو خائن قرار دیا جائے گا اور خائن شخص کو امین بنایا جائے گا۔ دعول ہلاکت کا شکار ہو جائے گا اور تحوت عام ہو جائے گا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! دعول اور تحوت سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دعول“ سے مراد لوگوں کے بڑے اور معززین ہیں اور ”تحوت“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے پاؤں کے نیچے رہتے ہیں اور ان کے بارے میں علم نہیں ہوتا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سعید بن جبیر نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس وقت احادیث کا سماع کیا تھا جس وقت ان کی عمر دس سال تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6844]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6844، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8740، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 3933، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 748، 3767» «رقم طبعة با وزير 6805»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الصحيحة» (3211).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 6844 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← أبو هريرة الدوسي