یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
265. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر دعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم لحذيفة بن اليمان بالمغفرة-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حذیفہ بن الیمان کے لیے مغفرت کی دعا کا
حدیث نمبر: 7126
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ النَّهْدِيِّ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَتْ لِي أُمِّي: مَتَى عَهْدُكَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُذْ كَذَا أَوْ كَذَا، فَنَالَتْ مِنِّي، فَقُلْتُ: فَإِنِّي آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُصَلِّي مَعَهُ، وَيَسْتَغْفِرُ لِي وَلَكَ، فَأَتَيْتُهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ، فَصَلَّى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَهُمَا، ثُمَّ مَضَى وَتَبِعْتُهُ، فَقَالَ لِي:" مَنْ هَذَا؟"، فَقُلْتُ: حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، فَقَالَ:" مَا جَاءَ بِكَ؟"، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَتْ لِي أُمِّي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلأُمِّكَ" .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری والدہ نے مجھ سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہاری آخری ملاقات کب ہوئی تھی؟ میں نے کہا: اتنے اتنے عرصے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات نہیں ہوئی، تو میری والدہ نے مجھے برا کہنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا ان کے ساتھ نماز ادا کروں گا وہ میرے لیے اور آپ کے لیے دعائے مغفرت کریں گے پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور مغرب کی نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں نمازوں کے ہمراہ نوافل ادا کیے پھر آپ روانہ ہوئے، تو میں آپ کے پیچھے آیا آپ نے مجھ سے دریافت کیا: کون ہے۔ میں نے عرض کی: حذیفہ بن یمان۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کیوں آئے ہو؟ میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا: جو میری والدہ نے مجھ سے کہا: تھا , تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری اور تمہاری والدہ کی مغفرت کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7126]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1194، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6960، 7126، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1181، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3781، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23804» «رقم طبعة با وزير 7082»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 205 - 206)، «المشكاة» (6162)، «الصحيحة» (696).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 7126 in Urdu
زر بن حبيش الأسدي ← حذيفة بن اليمان العبسي