🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
340. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر أشج عبد القيس رضي الله عنه-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اشج عبد القيس رضی اللہ عنہ کا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7203
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى الْعَبْدِيُّ أَبُو مُنَازِلٍ أَحَدُ بَنِي غَنْمٍ، عَنِ الأَشَجِّ الْعَصَرِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُفْقَةٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ لِيَزُورَهُ فَأَقْبَلُوا، فَلَمَّا قَدِمُوا، رَفَعَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنَاخُوا رِكَابَهُمْ، فَابْتَدَرَ الْقَوْمُ، وَلَمْ يَلْبَسُوا إِلا ثِيَابَ سَفَرِهِمْ، وَأَقَامَ الْعَصَرِيُّ فَعَقَلَ رَكَائِبَ أَصْحَابِهِ وَبَعِيرَهُ، ثُمَّ أَخْرَجَ ثِيَابَهُ مِنْ عَيْبَتِهِ وَذَلِكَ بِعَيْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ"، قَالَ: مَا هُمَا؟ قَالَ:" الأَنَاةُ، وَالْحِلْمُ"، قَالَ: شَيْءٌ جُبِلْتُ عَلَيْهِ أَوْ شَيْءٌ أَتَخَلَّقُهُ؟ قَالَ:" لا بَلْ جُبِلْتَ عَلَيْهِ"، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَعْشَرَ عَبْدِ الْقَيْسِ، مَالِي أَرَى وجُوهَكُمْ قَدْ تَغَيَّرَتْ"، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، نَحْنُ بِأَرْضٍ وَخِمَةٍ، كُنَّا نَتَّخِذُ مِنْ هَذِهِ الأَنْبِذَةِ مَا يَقْطَعُ اللُّحْمَانَ فِي بُطُونِنَا، فَلَمَّا نُهِينَا عَنِ الظُّرُوفِ، فَذَلِكَ الَّذِي تَرَى فِي وُجُوهِنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الظُّرُوفَ لا تَحِلُّ وَلا تُحَرِّمُ، وَلَكِنْ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَلَيْسَ أَنْ تَحْبِسُوا فَتَشْرَبُوا، حَتَّى إِذَا امْتَلأَتِ الْعُرُوقُ تَنَاحَرْتُمْ، فَوَثَبَ الرَّجُلُ عَلَى ابْنِ عَمِّهِ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ، فَتَرَكَهُ أَعْرَجَ" ، قَالَ: وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي الْقَوْمِ الأَعْرَجُ الَّذِي أَصَابَهُ ذَلِكَ.
سیدنا اشج عصری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ عبد القیس قبیلے کے کچھ ساتھیوں سمیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کریں، جب وہ لوگ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلند آواز میں بلایا، ان لوگوں نے اپنی سواریوں کو بٹھایا اور تیزی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے۔ لوگوں نے سفر کے کپڑے پہنے ہوئے تھے (یعنی جو صاف ستھرے نہیں تھے)؛ سیدنا اشج عصری رضی اللہ عنہ نے وہیں قیام کیا، انہوں نے اپنے ساتھیوں کے اونٹوں کو باندھا اور انہوں نے اپنے سامان میں سے کپڑے نکالے، یہ سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں کے سامنے ہو رہا تھا، پھر وہ (کپڑے تبدیل کر کے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہارے اندر دو خصوصیات ہیں جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے دریافت کیا: وہ کون سی ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وقار اور بردباری۔ انہوں نے عرض کی: کیا یہ چیز میری فطرت میں شامل ہے یا میں نے اسے خود اختیار کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں بلکہ یہ فطرت میں شامل ہے، تو سیدنا اشج رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبد القیس قبیلے کے لوگو! کیا وجہ ہے کہ مجھے تمہارے چہرے تبدیل نظر آ رہے ہیں؟ ان لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہم طبیعت کے لیے غیر موافق سرزمین پر رہتے ہیں، ہم یہ نبیذیں تیار کرتے ہیں جو ہمارے پیٹ میں گوشت کو ہضم کر دیتی ہیں، لیکن جب ہمیں (نبیذ تیار کرنے والے) برتنوں کے استعمال سے منع کیا گیا (اور ہم نے نبیذ استعمال کرنا چھوڑ دی) تو اب ہماری یہ حالت ہو گئی ہے جو اب ہمارے چہروں پر نظر آ رہی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتے، البتہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے؛ یہ نہیں ہو سکتا کہ تم لوگ شراب پیو، یہاں تک کہ جب اچھی طرح شراب پی لو، تو ایک دوسرے کے مد مقابل آ جاؤ، پھر کوئی شخص اپنے چچا زاد پر حملہ کر کے اسے تلوار مار کر اسے لنگڑا کر دے۔ راوی کہتے ہیں: اس وقت ان حاضرین میں ایک ایسا لنگڑا بھی موجود تھا جس کے ساتھ یہ صورت حال پیش آئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7203]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7203، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7699، 8248، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18108، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6848» «رقم طبعة با وزير 7159»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (2/ 625 / 5054 / التحقيق الثاني): م - أبي سعيد.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المنذر بن عائذ العصريصحابي
👤←👥المثنى بن مازن العبدي، أبو المنازل
Newالمثنى بن مازن العبدي ← المنذر بن عائذ العصري
مقبول
👤←👥الحجاج بن حسان القيسي
Newالحجاج بن حسان القيسي ← المثنى بن مازن العبدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← الحجاج بن حسان القيسي
ثقة
👤←👥محمد بن مرزوق الباهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن مرزوق الباهلي ← روح بن عبادة القيسي
ثقة
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← محمد بن مرزوق الباهلي
ثقة مأمون
Sahih Ibn Hibban Hadith 7203 in Urdu