صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
547. باب وصف الجنة وأهلها - ذكر الإخبار عن وصف عنب الجنة الذي أعده الله للمطيعين في عباده-
جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ جنت کے انگور کی کیفیت جو اللہ نے اپنے بندوں میں مطیعین کے لیے تیار کیے
حدیث نمبر: 7416
أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَمِّرُ بْنُ يَعْمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ زَيْدٍ الْبِكَالِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ ، يَقُولُ: قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: فِيهَا عِنَبٌ يَعْنِي: الْجَنَّةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: مَا عِظَمُ الْعُنْقُودِ مِنْهَا؟ قَالَ:" مَسِيرَةُ شَهْرٍ لِلْغُرَابِ الأَبْقَعِ لا يَنْثَنِي وَلا يَفْتُرُ"، قَالَ: مَا عِظَمُ الْحَبَّةِ مِنْهُ؟ قَالَ:" هَلْ ذَبَحَ أَبُوكَ تَيْسًا مِنْ غَنَمِهِ قَطُّ عَظِيمًا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَسَلَخَ إِهَابَهُ، فَأَعْطَاهُ أُمَّكَ، وَقَالَ: ادْبُغِي لَنَا هَذَا، ثُمَّ افْرِي لَنَا مِنْهُ دَلْوًا نَرْوِي بِهِ مَاشِيَتَنَا؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ تِلْكَ الْحَبَّةَ تُشْبِعُنِي وَأَهْلَ بَيْتِي؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَعَامَّةُ عَشِيرَتِكَ ".
سیدنا عتبہ بن عبد السلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا اس میں انگور ہوں گے؟ اس کی مراد یہ تھی کہ کیا جنت میں انگور ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ اس نے دریافت کیا: اس کے گچھے کتنے بڑے ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اتنی مسافت جتنی جو ایک ابقع کوا رکے بغیر مسلسل اڑتے ہوئے ایک ماہ میں طے کرتا ہے۔“ دیہاتی نے دریافت کیا: اس کا دانہ کتنا بڑا ہوگا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے والد نے اپنی بکریوں میں سے بھی کوئی بڑا نر جانور ذبح کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”انہوں نے اس کی کھال بھی اتاری ہوگی اور وہ تمہاری والدہ کو دی ہوگی اور یہ کہا ہوگا: تم ہمارے لیے اس کی دباغت کر دو اور پھر اس کے ذریعے ہمارے لیے ایک مشکیزہ تیار کر دینا تاکہ ہم اس کے ذریعے اپنے جانوروں کو پانی دیں؟“ اس دیہاتی نے جواب دیا: جی ہاں۔ پھر اس نے کہا: وہ ایک دانہ تو مجھے اور میرے تمام اہل خانہ کو سیر کر دے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں اور تمام خاندان کے اکثر افراد کو بھی (سیر کر دے گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7416]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6450، 7247، 7414، 7416، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17917، والطبراني فى(الكبير) برقم: 312، 313، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 402» «رقم طبعة با وزير 7373»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - انظر الحديث (7371). تنبيه!! رقم (7371) = (7414) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
صحيح لغيره
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 7416 in Urdu
عامر بن زيد البكالي ← عتبة بن عبد السلمي