صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
611. باب صفة النار وأهلها - ذكر الإخبار عن وصف خمسة أنفس يدخلون النار من هذه الأمة-
جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ اس امت کے پانچ افراد جہنم میں داخل ہوں گے
حدیث نمبر: 7483
سَمِعْتُ الْهَيْثَمَ بْنَ خَلَفٍ الدُّورِيَّ بِبَغْدَادَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ مُوسَى الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ:" يُخْرِجُ اللَّهُ قَوْمًا مِنَ النَّارِ فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ" ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ فِي حَدِيثِ عَمْرٍو: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ، وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا، فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: إِنَّكُمْ تَجْعَلُونَ الْخَاصَّ عَامًّا، هَذِهِ لِلْكُفَّارِ اقْرَؤُوا مَا قَبْلَهَا، ثُمَّ تَلا: إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُمْ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ، وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا هَذِهِ لِلْكُفَّارِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: میں نے ان دونوں کانوں کے ذریعے سنا۔ انہوں نے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے یہ کہا: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کرے گا۔“ عمرو کی روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ ایک شخص نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ﴿يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا﴾ [سورة المائدة: 37] ”وہ لوگ جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے لیکن وہ اس سے نکل نہیں سکیں گے۔“ تو سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم لوگ خصوصی مفہوم سے عام مفہوم مراد لے رہے ہو۔ یہ کفار کے بارے میں ہے، تم اس سے پہلے والے حصے کو بھی تلاوت کرو۔ انہوں نے یہ تلاوت کی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ * يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا﴾ [سورة المائدة: 36-37] ”بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اگر ان کے لیے زمین میں موجود سب کچھ ہو اور اس کی مانند مزید ان کے ساتھ ہو اور وہ قیامت کے دن کے عذاب کے لیے اسے فدیے کے طور پر دینا چاہیں، تو وہ ان کی طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا انہیں دردناک عذاب ہو گا وہ جہنم سے نکلنا چاہیں گے لیکن وہ اس سے نہیں نکل سکیں گے۔“ یہ آیت کفار کے لیے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7483]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6558، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 191، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 183، 7483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14533، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1282» «رقم طبعة با وزير 7440»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3055).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 7483 in Urdu
عمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري