🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ زَوَاجِ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1105
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ: أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا لَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَتْهُمْ أَنَّهَا ابْنَةُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَكَذَّبُوهَا، وَقَالُوا: مَا أَكْذَبَ الْغَرَائِبَ!، حَتَّى أَنْشَأَ إِنْسَانٌ مِنْهُمُ الْحَجَّ، فَقَالُوا: أَتَكْتُبِينَ إِلَى أَهْلِكِ؟ فَكَتَبَتْ مَعَهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَتْ: فَصَدَّقُونِي وَازْدَدْتُ عَلَيْهِمْ كَرَامَةً، قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنِي فَقُلْتُ لَهُ: مَا مِثْلِي نُكِحَ. أَمَّا أَنَا فَلَا وَلَدَ لِي وَأَنَا غَيُورٌ ذَاتُ عِيَالٍ، قَالَ: أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَيُذْهِبُهَا اللَّهُ، وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَأْتِيهَا وَيَقُولُ:"أَيْنَ زُنَابُ"؟ حَتَّى جَاءَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ [ ص: 27 ] فَاخْتَلَجَهَا، وَقَالَ: هَذِهِ تَمْنَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ تُرْضِعُهَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"أَيْنَ زُنَابُ"؟ فَقَالَتْ قُرَيْبَةُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ وَوَافَقَهَا عِنْدَهَا: أَخَذَهَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنِّي آتِيكُمُ اللَّيْلَةَ". قَالَتْ: فَقُمْتُ فَوَضَعْتُ ثِفَالِي وَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ كَانَتْ فِي جَرٍّ وَأَخْرَجْتُ شَحْمًا فَعَصَدْتُهُ أَوْ عَصَرْتُهُ، قَالَتْ: فَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْبَحَ فَقَالَ حِينَ أَصْبَحَ:"إِنَّ لَكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً، فَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ أُسَبِّعْ أُسَبِّعْ لِنِسَائِي".
ابو بکر بن عبد الرحمن بن حارث بن ہشام، ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بتایا کہ جب وہ مدینہ آئیں تو انہوں نے مدینہ والوں کو بتایا کہ وہ ابوامیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہیں تو انہوں نے ان کی بات نہ مانی اور کہا: اجنبی لوگ کتنے جھوٹے ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک انسان حج کو گیا تو انہوں نے کہا: کیا تو اپنے گھر والوں کے لیے کوئی پیغام لکھنا چاہتی ہے؟ انہوں نے ان کو پیغام لکھ کر دے دیا، جب وہ مدینہ واپس آئے تو انہوں نے میری تصدیق کی اور میری پہلے سے زیادہ عزت کرنے لگے۔ فرماتی ہیں: جب میں حلال ہوئی (عدت مکمل ہوئی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور مجھے منگنی کا پیغام دیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے جیسی سے کون نکاح کرے گا، اب میرے ہاں (مزید) اولاد نہ ہوگی، اور میں غیرت مند اور صاحبِ عیال ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تجھ سے (عمر میں) بڑا ہوں، رہی غیرت تو اللہ اس کو دور فرما دیں گے، اور اولاد اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے عقد کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے تو فرماتے: زناب کہاں ہے؟ یہاں تک کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اس کو جلدی سے (ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی گود سے) چھین لیا اور کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روکتی ہے، جبکہ وہ (ام سلمہ) اسے دودھ پلاتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زناب کہاں ہے؟ قریبہ بنت ابوامیہ، جو اس وقت وہاں موجود تھیں، انہوں نے کہا: اسے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے لے لیا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں رات کو تمہارے پاس آؤں گا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں اٹھی اور چکی کے نیچے بچھانے والے چمڑے کو بچھایا، اور گھڑے سے جو کے دانے نکالے، پھر چربی نکالی اور اس کو ان پر نچوڑ دیا (سالن تیار کیا)۔ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات گزاری اور صبح کی۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تیرے لیے تیرے گھر والوں کے ہاں عزت ہے، اگر تو چاہے تو میں تیرے لیے سات دن مقرر کرتا ہوں، اور اگر میں نے سات دن مقرر کیے تو اپنی دوسری عورتوں کے لیے بھی سات کروں گا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1105]
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي: 301/7 - وفى المعرفة السنن والآثار لــه (4380) - واحمد: 6/ 295، 307، 308. والنسائي في الكبرى (8926) - وصححه الحاكم: 4 / 16، 17، وابن حبان.»


Musnad Shafi Hadith 1105 in Urdu