مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَلَمْ يُدْخَلْ بِهَا
اس عورت کی عدت جس کا شوہر دخول سے پہلے وفات پا گیا ہو کا بیان۔
حدیث نمبر: 1308
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ بِنْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأُمَّهَا بِنْتَ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ كَانَتْ تَحْتَ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَمَاتَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا صَدَاقًا، فَاتَّبَعَتْ أُمُّهَا صَدَاقَهَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَيْسَ لَهَا صَدَاقٌ، وَلَوْ كَانَ لَهَا صَدَاقٌ لَمْ نَمْنَعْكُمُوهُ وَلَمْ نَظْلِمْهَا، فَأَبَتْ أَنْ تَقْبَلَ ذَلِكَ، فَجَعَلَ بَيْنَهُمْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَضَى أَنَّ لَا صَدَاقَ لَهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الصَّدَاقِ وَالْإِيلَاءِ.
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور اس کی ماں، زید بن خطاب کی بیٹی سے متعلق بیان کرتے ہیں کہ (عبید اللہ بن عمر کی بیٹی) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے نکاح میں تھی، کہ وہ صحبت سے پہلے ہی وفات پا گئے اور انہوں نے اس کے لیے حق مہر بھی مقرر نہ کیا تھا، جب اس کی ماں نے اس کے لیے حق مہر کی ادائیگی کا مطالبہ کیا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کے لیے حق مہر نہیں ہے اور اگر اس کا حق مہر بنتا تو ہم اسے نہ روکتے اور نہ ہی اس عورت پر ظلم کرتے۔“ اس کی ماں نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا تو انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو فیصل مقرر کیا، تو انہوں نے فیصلہ دیا کہ اس کے لیے حق مہر نہیں البتہ میراث ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1308]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 247/7 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4308).»
Musnad Shafi Hadith 1308 in Urdu