مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي الضَّبُعِ
بجو کا بیان
حدیث نمبر: 1508
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الضَّبُعِ أَصَيْدٌ [ ص: 234 ] هِيَ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَقُلْتُ: أَتُؤْكَلُ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَقُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: نَعَمْ.
ابن ابی عمار سے روایت ہے کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا بجو کا شکار جائز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔ پھر میں نے پوچھا: کیا اس کا کھانا درست ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پھر پوچھا: آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الأطعمة والصيد والذبائح /حدیث: 1508]
تخریج الحدیث: «اخرجه الترمذى الحج، باب ما جاء في الصبح يصيبها المحرم (851) . وقال ”حسن صحيح“ والنسائي، مناسك الحج، باب مالا يقتله (2839) وصححه ابن خزيمة (2645) وابن الجارود (438) - والحاكم: 1/ 452 - وابن حبان.»
Musnad Shafi Hadith 1508 in Urdu