مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ الْأَوْقَاتِ الْمَنْهِيِّ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا
ان اوقات کا بیان جن میں نماز پڑھنا منع ہے
حدیث نمبر: 156
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا، فَإِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا، فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا، فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا، فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا"، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ.
عبد اللہ الصنابجی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان کے سینگ بھی طلوع ہوتے ہیں، جب وہ بلند ہو جاتا ہے تو شیطان اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ جب وہ (آسمان کے) درمیان میں پہنچتا ہے تو شیطان اس سے مل جاتا ہے۔ جب سورج ڈھلتا ہے تو وہ پھر جدا ہو جاتا ہے اور جب غروب کے قریب ہوتا ہے تو وہ پھر مل جاتا ہے اور غروب (آفتاب) کے بعد پھر جدا ہو جاتا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (تین) وقتوں میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 156]
تخریج الحدیث: «صحيح: اخرجه النسائي المواقيت، باب الساعات التي نهى عن الصلاة فيها (560) ـ و ابن ماجة: الصلاة، باب ماجاء في الساعات التي تكره فيها الصلاة (1253).»
Musnad Shafi Hadith 156 in Urdu