مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ حَدِّ الزِّنَا
زنا کی حد کا بیان
حدیث نمبر: 1576
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَأَبِي الزِّنَادِ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ: أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: أَحَدُهُمَا أَحْبَنُ، وَقَالَ الْآخَرُ: مُقْعَدٌ كَانَ عِنْدَ جِوَارِ سَعْدٍ، فَأَصَابَ امْرَأَةً حَبَلٌ، فَرُمِيَتْ بِهِ، فَسُئِلَ، فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ قَالَ [ ص: 272 ] أَحَدُهُمَا: فَجُلِدَ بِإِثْكَالِ النَّخْلِ، وَقَالَ الْآخَرُ: بِأُثْكُولِ النَّخْلِ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا ان میں سے ایک بڑے پیٹ والا تھا اور دوسرے نے کہا اپاہج (معذور) جو سعد رضی اللہ عنہ کے پڑوس میں رہتا تھا، اس نے ایک عورت سے زنا کیا اور وہ حاملہ ہوگئی۔ اس عورت پر اس سے زنا کی تہمت لگائی گئی، جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے اعتراف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا۔ ان دونوں میں سے ایک نے کہا: اسے کھجور کی ایک ڈالی (جس میں سو ٹہنیاں تھیں) سے مارا گیا، اور دوسرے نے ”إثکال“ کی بجائے ”أثکول“ بیان کیا (یہ دونوں لفظ ہم معنی ہیں)۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1576]
تخریج الحدیث: «صحيح من غير هذا الطريق اخرجه ابو داود، الحدود، باب في اقامة الحد على المريض (4472) وابن ماجة الحدود، باب الكبير والمريض يجب عليه الحد (2574) وصححه ابن الجارود (817).»
Musnad Shafi Hadith 1576 in Urdu