🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ حَدِّ السَّرِقَةِ وَقِيمَةِ مَا فِيهِ الْقَطْعُ
چوری کی حد اور اس قیمت کا بیان جس میں ہاتھ کاٹا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1589
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَقْطَعَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ، قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَشَكَا إِلَيْهِ أَنَّ عَامِلَ الْيَمَنِ ظَلَمَهُ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَيَقُولُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَأَبِيكَ مَا لَيْلُكَ بِلَيْلِ سَارِقٍ. ثُمَّ إِنَّهُمُ افْتَقَدُوا حُلِيًّا لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، امْرَأَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَطُوفُ مَعَهُمْ، وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِمَنْ بَيَّتَ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ الصَّالِحِ، فَوَجَدُوا الْحُلِيَّ عِنْدَ صَائِغٍ، وَأَنَّ الْأَقْطَعَ جَاءَ بِهِ فَاعْتَرَفَ الْأَقْطَعُ أَوْ شَهِدَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُطِعَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ لَدُعَاؤُهُ عَلَى نَفْسِهِ أَشَدُّ عِنْدِي مِنْ سَرِقَتِهِ. أَخْرَجَ السِّتَّةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْقَطْعِ فِي السَّرِقَةِ.
عبد الرحمن بن قاسم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ یمن کا رہنے والا ایک آدمی، جس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کٹا ہوا تھا، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور شکایت کی کہ یمن کے حاکم نے اس پر ظلم کیا ہے، وہ رات کو نماز پڑھتا تھا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے: ”تیرے باپ کی قسم! تیری رات چوروں کی رات نہیں ہے۔“ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے زیورات چوری ہو گئے، تو لوگوں کے ساتھ یہ آدمی بھی ڈھونڈتا اور کہتا: ”اے اللہ! اس آدمی کو تباہ کر جس نے ایسے نیک گھر والوں کے ہاں چوری کی۔“ پھر انہوں نے وہ ہار ایک سنار کے پاس پایا، (اس سنار نے بتایا کہ) یہ وہی کٹا ہوا آدمی لے کر آیا تھا۔ اس یمنی چور نے اعتراف کر لیا یا گواہی سے ثابت ہو گیا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا (بچا ہوا) بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا، اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے اس کی وہ مکارانہ بددعا جو وہ اپنے اوپر کرتا تھا، اس کی چوری سے زیادہ سخت معلوم ہوئی۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1589]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، فان القاسم بن محمد لم يسمع من جده ابى بكر الصديق اخرجه البيهقي: 8/ 273 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5175) - وعبدالرزاق (2769)- والبغوى (2602).»


Musnad Shafi Hadith 1589 in Urdu