مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الْعَقْلِ وَالْقَوَدِ
دیت اور قصاص میں اختیار کا بیان۔
حدیث نمبر: 1632
أَخْبَرَنِي أَبُو حَنِيفَةَ سِمَاكُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَامَ الْفَتْحِ: مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِنْ أَحَبَّ أَخَذَ الْعَقْلَ، وَإِنْ أَحَبَّ فَلَهُ الْقَوَدُ. فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: فَقُلْتُ لِابْنِ أَبِي ذِئْبٍ: أَتَأْخُذُ بِهَذَا يَا أَبَا الْحَارِثِ؟ فَضَرَبَ صَدْرِي، وَصَاحَ عَلَيَّ صِيَاحًا كَثِيرًا وَنَالَ مِنِّي، وَقَالَ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ: تَأْخُذُ بِهِ. نَعَمْ، آخُذُ بِهِ وَذَلِكَ الْفَرْضُ عَلَيَّ وَعَلَى مَنْ سَمِعَهُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اخْتَارَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّاسِ فَهَدَاهُمْ بِهِ، عَلَى يَدَيْهِ وَاخْتَارَ لَهُمْ مَا اخْتَارَ لَهُ، عَلَى لِسَانِهِ فَعَلَى الْخَلْقِ أَنْ يَتَّبِعُوهُ طَائِعِينَ أَوْ دَاخِرِينَ، لَا مَخْرَجَ لِمُسْلِمٍ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: وَمَا سَكَتَ عَنِّي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ يَسْكُتَ.
ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ مکہ والے سال فرمایا: ”جس کا کوئی عزیز قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں کا اختیار ہے، اگر چاہے تو دیت لے لے، اور اگر چاہے تو اس کے لیے قصاص ہے۔“ ابوحنیفہ نے کہا: میں نے ابن ابی ذئب سے کہا: اے ابوالحارث! کیا آپ اس حدیث کو لیں گے؟ (یعنی اس پر عمل کریں گے)۔ ابن ابی ذئب نے میرے سینے پر مارا اور مجھ پر خوب شور مچایا اور مجھے برا بھلا کہا اور فرمایا: میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں اور تو کہتا ہے کہ کیا آپ اس کو اختیار کریں گے؟ ہاں! میں اسے لوں گا اور یہ بات مجھ پر بھی اور ہر اس حدیث کو سننے والے پر فرض ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں میں سے چنا اور ان کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دی، اور لوگوں کے لیے بھی وہی دین پسند کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا۔ لہذا مخلوق پر واجب ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حالت میں اتباع کریں، کیونکہ ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ابوحنیفہ نے کہا: آپ مجھے یہ باتیں کہتے کہتے خاموش نہیں ہوئے حتیٰ کہ میں نے تمنا کی کہ آپ خاموش ہو جائیں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب القتل والقصاص والديات والقسامة /حدیث: 1632]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعیف، فان أبا حنيفة سماك بن الفضل مجهول والجزء المرفوع منه صحيح انظر الحديث الذي قبله برقم (1631).»
Musnad Shafi Hadith 1632 in Urdu