🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابٌ فِي الْأَذَانِ وَكَيْفِيَّتِهِ وَقَوْلُهُ تَعَالَىٰ "وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ"
اذان اور اس کے طریقے کا بیان، اور اللہ کا فرمان ”اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 165
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ أَخْبَرَهُ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حِينَ جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ، فَقُلْتُ لِأَبِي مَحْذُورَةَ: أَيْ عَمِّ، إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ فَأَخْبِرْنِي أَبَا مَحْذُورَةَ، قَالَ: نَعَمْ، خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ، وَكُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ، فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، فَلَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ، فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ مُتَنَكِّبُونَ، فَصَرَخْنَا نَحْكِيهِ وَنَسْتَهْزِئُ بِهِ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا إِلَى أَنْ وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ؟" فَأَشَارَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ إِلَيَّ، وَصَدَقُوا، فَأَرْسَلَ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي، قَالَ:"قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ"، فَقُمْتُ وَلَا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا مِمَّا يَأْمُرُنِي بِهِ، فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، فَقَالَ قُلِ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ [ ص: 239 ] مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: ارْجِعِ امْدُدْ مِنْ صَوْتِكَ، ثُمَّ قَالَ: قُلْ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ، فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ أَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ مَرَّ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ، ثُمَّ بَلَغَتْ يَدُهُ سُرَّةَ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِالتَّأْذِينِبِمَكَّةَ، فَقَالَ:"قَدْ أَمَرْتُكَ بِهِ" وَذَهَبَ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرَاهِيَةٍ، وَعَادَ ذَلِكَ كُلُّهُ مَحَبَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.  قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ آلِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَلَى نَحْوِ مَا أَخْبَرَ ابْنُ مُحَيْرِيزٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَدْرَكْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ يُؤَذِّنُ كَمَا حَكَى ابْنُ مُحَيْرِيزٍ. وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُحَيْرِيزٍ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعْنَى مَا حَكَى ابْنُ جُرَيْجٍ.
عبداللہ بن محیریز رحمہ اللہ سے روایت ہے جو ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے پاس بچپن میں یتیم ہونے کی وجہ سے زیر پرورش رہے تھے۔ جب (ابومحذورہ) نے انہیں شام بھیجا تو عبداللہ بن محیریز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے چچا! میں شام کی طرف جا رہا ہوں، اور مجھے خدشہ ہے کہ مجھ سے آپ کی اذان کے متعلق پوچھا جائے گا لہٰذا مجھے مسئلہ سمجھا دیجیے تو ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، میں چند افراد کے ساتھ سفر پر روانہ ہوا ہم حنین کے راستے پر تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (غزوہ حنین سے) لوٹے اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستے میں ملاقات کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ میں آپ کے مؤذن نے نماز کے لیے اذان کہی، اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے برگشتہ تھے، ہم مؤذن کا مذاق اڑاتے ہوئے بلند آواز سے اس کی نقل اتارنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری آواز سنی تو ہماری طرف آدمی بھیجے تو انہوں نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کھڑا کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس کی بلند آواز مجھے سنائی دی تھی؟ ساری قوم نے میری طرف اشارہ کیا اور ان کی بات درست تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روک کر (باقی) سب کو بھیج دیا، اور فرمایا: کھڑے ہو کر نماز کے لیے اذان کہو! میں کھڑا ہو گیا لیکن میری کیفیت یہ تھی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ کے حکم سے انتہائی نفرت محسوس ہو رہی تھی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا تو آپ نے خود مجھے اذان سکھائی، فرمایا: کہو! ﴿اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ پھر فرمایا: اپنی آواز بلند کر کے کہو: ﴿أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ جب میں نے اذان مکمل کر لی تو آپ نے مجھے بلایا اور تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی، پھر اپنا ہاتھ ابومحذورہ کے سر پر رکھا، پھر اس کے چہرے پر پھیرا، پھر سینے پر پھیرا، پھر جگر پر پھیرا، پھر آپ کا ہاتھ ابومحذورہ کی ناف تک جا پہنچا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تجھ میں برکت دیں، اور تجھ پر برکت نازل فرمائے۔ (ابومحذورہ کہتے ہیں) میں نے کہا: مجھے مکہ میں اذان دینے پر مقرر فرمائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے مقرر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو بھی نفرت تھی جاتی رہی، اور یہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں بدل گئی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل (گورنر) عتاب بن اسید کے پاس آیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نماز کے لیے اذان دیتا رہا۔ ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے اہل میں ہر ایک نے ابن محیریز کی طرح ہی بیان کیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابراہیم بن عبدالعزیز بن عبدالملک بن ابی محذورہ کو اسی طرح اذان دیتے پایا جس طرح ابن محیریز نے بیان کی، اور میں نے ان کو اپنے والد سے اسی طرح بیان کرتے ہوئے سنا، ابراہیم کے والد ابن ابی محیریز سے اور وہ ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معنی میں بیان فرماتے ہیں جو ابن جریج سے منقول ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 165]
تخریج الحدیث: «اخرجھ ابن ماجہ: الاذان، باب الترجيع فی الاذان: 708 - والنسائی، الاذان، باب کیف الاذان: 633 - وصححھ ابن خزيمۃ: 379»


Musnad Shafi Hadith 165 in Urdu