مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ فَضِيلَةِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
جمعہ کے دن کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 465
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ، وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ مَاتَ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُسِيخَةٌ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ [ ص: 38 ] شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ، إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ؟ وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي"، وَتِلْكَ سَاعَةٌ لَا يُصَلَّى فِيهَا؟ وَقَالَ ابْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ؟" قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى. قَالَ: فَهُوَ ذَلِكَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اور اسی دن وہ زمین پر بھیجے گئے اور اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اور اسی دن ان کی وفات ہوئی اور اسی دن قیامت آئے گی۔ جنوں اور انسانوں کے علاوہ کائنات کا ہر جانور صبح صادق سے لے کر طلوع آفتاب تک جمعہ کے دن قیامت کے لیے کان لگائے رہتا ہے (صور کی آواز سننے کے لیے) اور اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں اگر کوئی مسلمان بندہ اللہ سے سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا کرتے ہیں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”یہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے“۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا: ”یہ آخری گھڑی کیسے ہو سکتی ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں سامنا کرتا اس کا کوئی مسلمان بندہ حالتِ نماز میں، اور آخری گھڑی (بعد از عصر کا وقت) میں تو نماز نہیں پڑھی جاتی؟“ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں کہ جو اپنی جگہ پر بیٹھ کر نماز کا انتظار کرے وہ نماز میں ہوتا ہے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جائے؟“ کہتے ہیں میں نے کہا: ”ہاں“۔ تو فرمایا: ”یہی وہ گھڑی (وقت) ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الجمعة /حدیث: 465]
تخریج الحدیث: «اخرجـہ الترمذی، الجمعۃ، باب ما جاء فی الساعۃ التی ترجٰی فی یوم الجمعۃ (491) وقال ”حسن صحیح“. وابوداود، الصلاة، باب فضل یوم الجمعۃ، ولیلۃ الجمعۃ (1046) والنسائی، الجمعۃ، باب ذکر الساعۃ التی یستجاب فیہا الدعاء یوم الجمعۃ (1431) . وصححہ ابن خزیمۃ (1783).»
Musnad Shafi Hadith 465 in Urdu