🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ الْبُكَاءِ قَبْلَ الْمَوْتِ وَبَعْدَهُ وَالنَّهْيِ عَنْهُ إِذَا مَاتَ وَأَنَّ الْكَافِرَ لِيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ
موت سے پہلے اور اس کے بعد رونے، وفات کے بعد اس کی ممانعت اور کافر کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیے جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 557
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَكَّةَ، فَجِئْنَا نَشْهَدُهَا، وَحَضَرَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي جَالِسٌ بَيْنَهُمَا جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُ [ ص: 78 ] فَجَلَسَ إِلَيَّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ: أَلَا تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ ثُمَّ حَدَّثَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ، قَالَ: فَاذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبِ؟ فَذَهَبْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ. قَالَ: ادْعُهُ فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ، فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالْحَقْ بِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ سَمِعْتُ صُهَيْبًا يَبْكِي وَيَقُولُ: وَا أُخَيَّاهُ وَا صَاحِبَاهُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ الْمَيِّتَ لَيَعُذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ". قَالَ: فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ، لَا وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"إِنَّ اللَّهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ"  فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى [الْأَنْعَامِ: 164] . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عِنْدَ ذَلِكَ:"وَاللَّهُ أَضْحَكَ وَأَبْكَى". قَالَ: ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: فَوَاللَّهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ مِنْ شَيْءٍ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْجَنَائِزِ وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی کا مکہ میں انتقال ہوا تو ہم ان کے جنازہ میں شریک ہونے کے لیے آئے۔ ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی تشریف لائے۔ فرمایا: میں ان دونوں کے بیچ میں بیٹھا ہوا تھا۔ ہوا یوں کہ میں ایک صاحب کے پاس بیٹھ گیا تو دوسرے صاحب آئے اور وہ میرے ساتھ بیٹھ گئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عثمان سے کہا: کیا تم انہیں رونے سے منع نہیں کرتے؟ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ بھی یوں کہتے تھے کہ بعض گھر والوں کے رونے سے (یعنی تم نے بعض کا لفظ نہیں بولا) پھر حدیث بیان کی اور کہا: میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے لوٹ رہا تھا یہاں تک کہ جب ہم بیداء میں پہنچے تو وہاں چند سوار درخت کے سایہ کے نیچے دیکھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جاؤ دیکھو یہ سوار کون ہیں؟ میں نے دیکھا تو وہ صہیب رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے فرمایا: جاؤ ان کو بلا لاؤ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے کہا: چلو امیر المومنین بلاتے ہیں۔ پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کو (شہادت کے وقت) زخم لگا تو میں نے سنا وہ روتے ہوئے کہہ رہے ہیں، ہائے میرے بھائی، ہائے میرے ساتھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے صہیب! کیا آپ مجھ پر روتے ہیں؟ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میت پر اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد میں نے اس کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے کہا: اللہ عمر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے، اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے نہیں کہا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے زیادہ کر دیتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم کو قرآن کافی ہے کہ کوئی کسی کا بوجھ اٹھانے والا نہیں۔ (فاطر: 18) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس دلیل پر فرمایا: اور اللہ ہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے۔ (النجم: 43) ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ اللہ کی قسم یہ سن کر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کچھ جواب نہیں دیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجنائز /حدیث: 557]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاری، الجنائز، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم: يعذب الميت ببعض اهله...... الخ (1286)، (1287)، 1288 . ومسلم، الجنائز، باب الميت يعذب ببكاء اهله عليه (927)، (928)، (929).»


Musnad Shafi Hadith 557 in Urdu