مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ قُبْلَةِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَائِمٌ
حالتِ روزہ میں آدمی کا اپنی بیوی کا بوسہ لینے کا بیان
حدیث نمبر: 644
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ رَجُلًا قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَائِمٌ، فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ وَجْدًا شَدِيدًا، فَأَرْسَلَ امْرَأَتَهُ تَسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ، فَدَخَلَتْ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْبَرَتْهَا، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، فَرَجَعَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى زَوْجِهَا فَأَخْبَرَتْهُ فَزَادَهُ ذَلِكَ شَرًّا، وَقَالَ لَسْنَا مِثْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِلُّ اللَّهُ لِرَسُولِهِ مَا شَاءَ فَرَجَعَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَوَجَدَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا بَالُ هَذِهِ الْمَرْأَةِ"؟ فَأَخْبَرَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَ:"أَلَا أَخْبَرْتِيهَا أَنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ!". فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: قَدْ أَخْبَرْتُهَا فَذَهَبَتْ إِلَى زَوْجِهَا فَزَادَهُ ذَلِكَ شَرًّا، وَقَالَ: لَسْنَا مِثْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِلُّ اللَّهُ لِرَسُولِهِ مَا شَاءَ. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ:"وَاللَّهِ إِنِّي لَأَتْقَاكُمْ للَّهِ، وَأَعْلَمُكُمْ بِحُدُودِهِ".
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لیا، تو اس سے اسے کافی پریشانی لاحق ہوگئی۔ اس نے اپنی بیوی کو بھیجا کہ وہ اس کے متعلق دریافت کرے۔ اس عورت نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ لیتے ہیں۔“ اس عورت نے واپس آکر اپنے خاوند کو بتایا تو اس بات نے اسے اور پریشان کر دیا، اس آدمی نے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نہیں ہیں کیونکہ اللہ اپنے رسول کے لیے جو چاہتا ہے جائز قرار دیتا ہے۔“ وہ عورت دوبارہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ہاں تشریف فرما پایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کو کیا مسئلہ ہے؟“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ نے اسے بتایا نہیں کہ میں یہ کام کرتا ہوں؟“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”میں نے اسے بتلا دیا تھا (لیکن) یہ اپنے خاوند کے پاس گئی تو وہ اور زیادہ پریشان ہو گیا، اور اس نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نہیں ہیں کیونکہ اللہ اپنے رسول کے لیے جو چاہتا ہے حلال کردیتا ہے۔“ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی حدود کو جاننے والا ہوں۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الصيام /حدیث: 644]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإرساله اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (2492) . والطحاوي: (2/ 94).»
Musnad Shafi Hadith 644 in Urdu