🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
101. . باب : ما جاء في الركعتين قبل الفجر
باب: فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1144
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ كَأَنَّ الْأَذَانَ بِأُذُنَيْهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے پہلے دو رکعت پڑھتے تھے، گویا کہ آپ اقامت سن رہے ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1144]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح (کے فرضوں) سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے، (اور اتنے ہلکے پڑھتے) گویا آپ کے کانوں میں اقامت کی آواز آرہی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوتر2 (995)، صحیح مسلم/المسافرین 20 (749)، سنن الترمذی/الصلاة 222 (461)، (تحفة الأشراف: 6652)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/31، 45، 78، 88، 126) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اقامت کے وقت جیسے جلدی ہوتی ہے، ویسی جلدی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان رکعتوں کے ادا کرنے میں کرتے، مطلب یہ ہے کہ ان رکعتوں میں طول نہ کرتے، مختصر سورتیں پڑھتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أنس بن سيرين الأنصاري، أبو موسى، أبو عبد الله، أبو حمزة
Newأنس بن سيرين الأنصاري ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أنس بن سيرين الأنصاري
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
419
ألا ليبلغ شاهدكم غائبكم أن لا صلاة بعد الفجر إلا سجدتين
سنن أبي داود
1278
ليبلغ شاهدكم غائبكم لا تصلوا بعد الفجر إلا سجدتين
سنن ابن ماجه
1144
يصلي الركعتين قبل الغداة كأن الأذان بأذنيه
بلوغ المرام
142
لا صلاة بعد الفجر إلا سجدتين ...
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1144 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1144
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز ہلکی پڑھنے کا یہ مطلب نہیں کہ رکوع اور سجود اطمینان سے ادا نہ کیے جایئں۔
بلکہ تسبیحات کی تعداد اور تلاوت کی مقدار میں کمی مراد ہے۔

(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں میں ﴿سوره...قل ياايهاالكافرون﴾ اور  ﴿سوره ...قل هوالله احد﴾  کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
او ر یہ سب سے مختصر سورتوں میں سے ہیں۔ (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب استحباب رکعتي سنة الفجر...، حدیث: 726 وسنن ابن ماجه، حدیث: 1150، 1148)
بعض اوقات ان رکعتوں میں قدرے طویل قراءت بھی کرلیتے تھے۔ (صحیح مسلم حوالہ مذکور بالا)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1144]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 142
فجر (کی فرض نماز) کے بعد صرف دو سنت
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: ‏‏‏‏لا صلاة بعد الفجر إلا سجدتين . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے فجر (کی فرض نماز) کے بعد صرف دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی (نفل) نماز نہیں . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 142]
لغوی تشریح:
«لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ» «بَعْدَ الْفَجْرِ» سے مراد طلوع فجر ہے۔
«إِلَّا سَجْدَتَيْنِ» یہاں سجدتین کے معنی رکعتیں ہیں اور ایک نسخہ میں سجدتین کی جگہ رکعتین ہے۔ ان دو رکعتوں سے فجر کی دو سنتیں مراد ہیں۔

فائدہ:
مذکورہ روایات کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور ابوداود کی تحقیق میں لکھا ہے کہ اس مسئلے کی بابت صحیح مسلم کی روايت: [723] کفایت کرتی ہے۔ غالباً اسی وجہ سے شیخ البانی رحمہ اللہ اور دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ طلوع فجر کے بعد فرضوں سے پہلے صرف دو رکعت سنتیں ہی پڑھی جائیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 142]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1278
ان لوگوں کی دلیل جنہوں نے سورج بلند ہو تو عصر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کی اجازت دی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام یسار کہتے ہیں کہ مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فجر طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: یسار! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر آئے، اور ہم یہ نماز پڑھ رہے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے موجود لوگ غیر حاضر لوگوں کو بتا دیں کہ فجر (طلوع) ہونے کے بعد فجر کی دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی نماز نہ پڑھو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1278]
1278. اردو حاشیہ:
شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے، اس سے معلوم ہوا کہ طلوع فجر کے بعد فرضوں سے پہلے صرف دو رکعت سنتیں ہی پڑھی جائیں۔ تاہم رات کے وتر دن چڑھے پڑھنا مشکل ہوں تو اس وقت میں ادائیگی جائز ہے، جیسے کہ سببی نماز کا مسئلہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1278]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 419
طلوع فجر کے بعد سوائے فجر کی دو رکعت سنت کے کوئی نماز نہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: طلوع فجر کے بعد سوائے دو رکعت (سنت فجر) کے کوئی نماز نہیں۔‏‏‏‏ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ طلوع فجر کے بعد (فرض سے پہلے) سوائے دو رکعت سنت کے اور کوئی نماز نہیں۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 419]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی:
مستقل طور پر کوئی سنت نفل اس درمیان ثابت نہیں،
ہاں اگر کوئی گھر سے فجر کی سنتیں پڑھ کر مسجد آتا ہے،
اور جماعت میں ابھی وقت باقی ہے تو دو رکعت بطور تحیۃ المسجد کے پڑھ سکتا ہے،
بلکہ پڑھنا ہی چاہیے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 419]

Sunan Ibn Majah Hadith 1144 in Urdu