🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب : ما جاء فيمن صلى عليه جماعة من المسلمين
باب: جس شخص پر مسلمانوں کی ایک جماعت نے نماز جنازہ پڑھی اس کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1490
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ الشَّامِيِّ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: كَانَ إِذَا أُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَتَقَالَّ: مَنْ تَبِعَهَا؟ جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا صَفَّ صُفُوفٌ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مَيِّتٍ إِلَّا أَوْجَبَ".
مالک بن ہبیرہ شامی رضی اللہ عنہ (انہیں صحبت رسول کا شرف حاصل تھا) کہتے ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا، اور وہ اس کے ساتھ آنے والوں کی تعداد کم محسوس کرتے تو انہیں تین صفوں میں تقسیم کر دیتے، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس کسی میت پہ مسلمانوں کی تین صفوں نے صف بندی کی، تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1490]
حضرت مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ان کی موجودگی میں) جب کوئی جنازہ لایا جاتا اور وہ محسوس کرتے کہ اس کے ساتھ آنے والوں کی تعداد کم ہے تو انہیں تین صفوں میں تقسیم کر دیتے، پھر جنازہ پڑھاتے اور فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میت کا جنازہ مسلمانوں کی تین صفیں ادا کریں، اس کے لیے (مغفرت یا جنت) واجب ہو جاتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1490]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز 43 (3166)، سنن الترمذی/الجنائز40 (1028)، (تحفة الأشراف: 11208)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/79) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، تراجع الألبانی: رقم: 363)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3166) ترمذي (1028)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 431

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥مالك بن هبيرة السكوني، أبو سعيدصحابي
👤←👥مرثد بن عبد الله اليزني، أبو الخير
Newمرثد بن عبد الله اليزني ← مالك بن هبيرة السكوني
ثقة
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← مرثد بن عبد الله اليزني
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← يزيد بن قيس الأزدي
صدوق مدلس
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← ابن إسحاق القرشي
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← علي بن محمد الكوفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1028
من صلى عليه ثلاثة صفوف فقد أوجب
سنن أبي داود
3166
ما من مسلم يموت فيصلي عليه ثلاثة صفوف من المسلمين إلا أوجب
سنن ابن ماجه
1490
ما صف صفوف ثلاثة من المسلمين على ميت إلا أوجب
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1490 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1490
اردو حاشہ:
فائدہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم بعض حضرات نے مالک بن ہیرہ ؓ کے اثر کو حسن قرار دے کر اس مسئلے کا اثبات کیا ہے۔
نیز مذکورہ روایت سے امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے نماز جنازہ میں تین صفوں کی فضیلت کا اثبات کیا ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: (نیل الأوطار: 62/4)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1490]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3166
نماز جنازہ میں صف بندی کا بیان۔
مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی مسلمان مر جائے اور اس کے جنازے میں مسلمان نمازیوں کی تین صفیں ہوں تو اللہ اس کے لیے جنت کو واجب کر دے گا۔‏‏‏‏ راوی کہتے ہیں: نماز (جنازہ) میں جب لوگ تھوڑے ہوتے تو مالک اس حدیث کے پیش نظر ان کی تین صفیں بنا دیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3166]
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے امام شوکانی وٖغیرہ نے نماز جنازہ میں تین صفوں کی فضیلت کا اثبات ہے۔
(نیل الأوطار:63/4) لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم بعض افراد نے مالک بن ہبیرہ کے اثر کو حسن قرار دے کر اس مسئلے کا اثبات کیا ہے۔
تاہم دیگر روایات سے ثابت ہے۔
کہ میت کے جنازے میں شریک ہونے والوں کی دعا اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔
بشرط یہ کہ وہ صحیح معنوں میں مسلمان ہوں۔
محض نام کے رواجی مسلمان ہوں۔
نہ شرک وبدعت کا ارتکاب کرنے والے ہوں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3166]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1028
نماز جنازہ اور میت کے لیے شفاعت کا بیان۔
مرثد بن عبداللہ یزنی کہتے ہیں کہ مالک بن ہبیرہ رضی الله عنہ جب نماز جنازہ پڑھتے اور لوگ کم ہوتے تو ان کی تین صفیں ۱؎ بنا دیتے، پھر کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس کی نماز جنازہ تین صفوں نے پڑھی تو اس نے (جنت) واجب کر لی۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1028]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
صف کم سے کم دوآدمیوں پرمشتمل ہوتی ہے زیادہ کی کوئی حدنہیں۔
نوٹ:
(سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں اورروایت عنعنہ سے ہے،
البتہ مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ کا فعل شواہد اورمتابعات کی بناپر صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1028]

Sunan Ibn Majah Hadith 1490 in Urdu