🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. بَابُ : الرَّجُلِ يَعْتِقُ أَمَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا
باب: آدمی لونڈی کو آزاد کرے پھر اس سے شادی کر لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1957
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ، فَتَزَوَّجَهَا، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا"، قَالَ حَمَّادٌ، فَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ لِثَابِتٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْهَرَهَا؟، قَالَ: أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پہلے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو گئیں، تو آپ نے ان سے شادی کی، اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر بنایا ۱؎۔ حماد کہتے ہیں کہ عبدالعزیز نے ثابت سے پوچھا: اے ابومحمد! کیا آپ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (صفیہ) کا مہر کیا مقرر کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1957]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھیں، بعد میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا اور ان کی آزادی کو ان کا حق مہر قرار دیا۔“ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد) عبدالعزیز رحمہ اللہ نے (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے دوسرے شاگرد) ثابت رحمہ اللہ سے کہا: ”ابو محمد! کیا آپ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ دریافت کیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو کیا کچھ حق مہر میں دیا؟“ انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مہر کے طور پر خود ان کی ذات (کی آزادی) عطا فرمائی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1957]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الخوف 6 (947)، النکاح 14 (5086)، صحیح مسلم/النکاح 14 (1365)، الجہاد 43 (1365)، سنن ابی داود/الخراج 21 (2996)، سنن النسائی/النکاح 79 (3344)، (تحفة الأشراف: 291، 1017، 1018)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/99، 138، 165، 170، 181)، سنن الدارمی/النکاح 45 (2288، 2289) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: صفیہ رضی اللہ عنہا ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے تھیں، اور یہودیوں کے بادشاہ حی بن اخطب کی بیٹی تھیں، اس لئے مسلمانوں کے سردار کے پاس ان کا رہنا مناسب تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عبد العزيز بن صهيب البناني، أبو حمزة
Newعبد العزيز بن صهيب البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← عبد العزيز بن صهيب البناني
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← ثابت بن أسلم البناني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1957 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1957
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اس وقت جنگی قیدی بنی تھیں جب مسلمانوں نے خیبر فتح کیا۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیئے:
حدیث: 1909 کا فائدہ نمبر: 1)

(2)
آزادی کو حق مہر قرار دیا جا سکتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1957]

Sunan Ibn Majah Hadith 1957 in Urdu