سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : من تصدق بصدقة فوجدها تباع هل يشتريها
باب: صدقہ کر دینے کے بعد کیا اسے بکتا ہوا پا کر خرید سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 2393
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ،" أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ يُقَالُ لَهُ: غَمْرٌ أَوْ غَمْرَةٌ فَرَأَى مُهْرًا أَوْ مُهْرَةً مِنْ أَفْلَائِهَا يُبَاعُ يُنْسَبُ إِلَى فَرَسِهِ فَنَهَى عَنْهَا".
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک گھوڑی صدقہ میں دی جس کو غمر یا غمرۃ کہا جاتا تھا، پھر اسی کے بچوں میں ایک بچھیرا یا بچھیری کو بکتا دیکھا، جو ان کی گھوڑی کی نسل سے تعلق رکھتا تھا، تو اس کو خریدنے سے روک دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2393]
حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا ایک گھوڑا جس کا نام «غَمْر» یا «غَمْرَة» تھا، انہوں نے وہ (بطور صدقہ کسی کو) سواری کے لیے دے دیا۔ بعد میں انہوں نے اس کے ایک بچھیرے یا بچھیری کو بکتا دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس (کو خریدنے) سے منع کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2393]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3632، ومصباح الزجاجة: 848)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/164) (ضعیف)» (سند میں عبد اللہ بن عامر غیر معروف راوی ہیں، ان کے بارے میں یہ نہیں معلوم کہ وہ عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ غزی ثقہ راوی ہیں، یا کوئی اور، اس لئے اس احتمال کی وجہ سے حدیث ثابت نہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان التيمي عنعن
و حديث البخاري (2623) و مسلم (1620) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 465
إسناده ضعيف
سليمان التيمي عنعن
و حديث البخاري (2623) و مسلم (1620) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 465
الرواة الحديث:
Sunan Ibn Majah Hadith 2393 in Urdu
عبد الله بن عامر العنزي ← الزبير بن العوام الأسدي