سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب : التغليظ في التخلف عن الجماعة
باب: جماعت سے پیچھے رہنے پر سخت وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 794
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَابْنُ عُمَرَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِهِ:" لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجَمَاعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ".
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم خبر دیتے ہیں کہ ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: ”لوگ نماز باجماعت چھوڑنے سے ضرور باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر ان کا شمار غافلوں میں ہونے لگے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 794]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے سنا: ”لوگوں کو جماعت ترک کرنے سے باز آ جانا چاہیے، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر ضرور مہر لگا دے گا، پھر وہ ضرور غافلوں میں شامل ہو جائیں گے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 794]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 12 (865)، سنن النسائی/الجمعة 2 (1371)، (تحفة الأشراف: 6696)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/239، 254، 335، 2/84)، سنن الدارمی/الصلاة 205 (1611) (صحیح)» (صحیح مسلم میں یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اور اس میں «الجمعات» ہے، جس کو البانی صاحب نے محفوظ بتایا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2967)
وضاحت: ۱؎: یعنی ایمان کا نور ان کے دلوں سے جاتا رہے گا، اور عبادت کی لذت اور حلاوت ان کو حاصل نہ ہو گی، یا عبادت کا اثر ان کے دلوں پر نہ ہو گا، اور دل میں غفلت اور تاریکی بھر جائے گی، یہ فرمودہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مجرب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1371
| لينتهين أقوام عن ودعهم الجمعات أو ليختمن الله على قلوبهم وليكونن من الغافلين |
سنن ابن ماجه |
794
| لينتهين أقوام عن ودعهم الجماعات أو ليختمن الله على قلوبهم ثم ليكونن من الغافلين |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 794 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث794
اردو حاشہ:
(1)
بعض افراد کی غلطی کو سب کے سامنے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دوسرے لوگ ان کی غلطی کو اختیار نہ کریں اور سب لوگ متنبہ ہوجائیں۔
(2)
کسی کا نام لیے بغیر غلطی پر تنبیہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوجائے اور ان کی عزت بھی محفوط رہے۔
(3)
بعض گناہوں کی وجہ سے دلوں پر مہر لگ سکتی ہے جس کے نتیجے میں آئندہ نیکیوں کی توفیق سلب ہوسکتی ہے۔
(4)
نماز باجماعت کا ترک اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کی سزا دنیا ہی میں دل پر مہر لگ جانے کی صورت میں مل سکتی ہے۔
(5)
غفلت سے مراد یہ ہے کہ انسان کو اپنے فائدے کا احساس اور شوق باقی نہ رہےاور اپنے نقصان کا احساس اور اس سے خوف باقی نہ رہے۔
یہ ایک بہت بڑی روحانی بیماری ہے جس کی وجہ سے خطرہ ہے کہ انسان نیکی اور بدی کا شعور ہی کھو بیٹھےاور آخر کار جہنم میں جا پہنچے۔
أعاذنا الله من ذلك
(1)
بعض افراد کی غلطی کو سب کے سامنے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دوسرے لوگ ان کی غلطی کو اختیار نہ کریں اور سب لوگ متنبہ ہوجائیں۔
(2)
کسی کا نام لیے بغیر غلطی پر تنبیہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوجائے اور ان کی عزت بھی محفوط رہے۔
(3)
بعض گناہوں کی وجہ سے دلوں پر مہر لگ سکتی ہے جس کے نتیجے میں آئندہ نیکیوں کی توفیق سلب ہوسکتی ہے۔
(4)
نماز باجماعت کا ترک اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کی سزا دنیا ہی میں دل پر مہر لگ جانے کی صورت میں مل سکتی ہے۔
(5)
غفلت سے مراد یہ ہے کہ انسان کو اپنے فائدے کا احساس اور شوق باقی نہ رہےاور اپنے نقصان کا احساس اور اس سے خوف باقی نہ رہے۔
یہ ایک بہت بڑی روحانی بیماری ہے جس کی وجہ سے خطرہ ہے کہ انسان نیکی اور بدی کا شعور ہی کھو بیٹھےاور آخر کار جہنم میں جا پہنچے۔
أعاذنا الله من ذلك
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 794]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1371
نماز جمعہ چھوڑنے کی شناعت کا بیان۔
عبداللہ بن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منبر کے زینے سے فرمایا: ”لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا ۱؎ اور وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1371]
عبداللہ بن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منبر کے زینے سے فرمایا: ”لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا ۱؎ اور وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1371]
1371۔ اردو حاشیہ: جو شخص جمعے جیسی اہم عبادت کو چھوڑتا ہے اور بار بار چھوڑتا ہے، وہ دوسری عبادات کو بھی اہمیت نہ دے گا اور ایک ایک کر کے دیگر عبادات بھی اس سے چھوٹ جائیں گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ شخص عملاً منافق بن جائے گا اور اس کے دل پر زنگ لگ جائے گا جس سے اللہ تعالیٰ کی محبت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مغلوب ہو جائے گی۔ مہر لگنے سے مراد بھی یہی کچھ ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1371]
Sunan Ibn Majah Hadith 794 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي